Skip to main content

اگر کوئی شخص اپ کے ساتھ کاروبار کرے اور پھر اپ کی رقم واپس نہ کرے تو اس کے خلاف اپ قانونی کاروائی کیسے کریں گے ؟

 اگر کوئی شخص اپ کے ساتھ کاروبار کرے اور پھر اپ کی رقم واپس نہ کرے تو اس کے خلاف اپ قانونی کاروائی کیسے کریں گے ؟






            از دفتر: چوہدری ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ضلع کچہری ۔۔۔


بنام: عبدالغفار ولد امیر احمد قوم ارائیں ساکن تحصیل و ضلع ۔۔۔


 منجانب: فیض الحسن ولد عاشق حسین سکنہ تحصیل وضلع ۔۔۔



                             *لیگل نوٹس*



ہر گاہ میرے موکل نے مجھے ہدایت کی ہے کہ اپ کے نام ایک عدد لیگل نوٹس ارسال کروں کہ میرے موکل نے اپ کو 23-06-23 کو مبلغ پانچ لاکھ روپے بطور کاروبار کے سلسلے میں دیے. جس میں یہ طے ہوا کہ اپ مبلغ پانچ لاکھ روپے کا کپڑا بازار سے لے کر فروخت کریں گے اور منافع کی صورت میں منافع آدھا آدھا کیا جائے گا جس کی بابت ایک اشٹام پیپر بھی تحریر کیا گیا اشٹام پیپر میں درج تحریر کے مطابق اپ دو سال کی مدت کے بعد رقم واپس کرنے کے پابند ہوں گے جس کی معیاد 23-06-2025 بنتی ہے مگر اپ نے نہ کوئی منافع دیا اور جب اپ سے رقم واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو اپ ٹال مٹول سے کام لینے لگے جس کے بعد میرے موکل نے بذریعہ معززین علاقہ سے بھی اپ کو کہلوایا مگر اپ نے ان سے بھی وعدہ کر لیا لیکن جب میرے موکل اپنے بیٹے کے ہمراہ اپ کی دکان پر مورخہ 10-03-26 کو اور اپنی رقم واپسی کا مطالبہ کیا تو اپ صاف انکاری ہو گئے جس پر اپ نے میرے موکل کے مبلغ پانچ لاکھ روپے نقدی اور منافہ دینے کے پابند تھے مگر اپ نے ایسا نہ کیا اور صاف انکاری ہو گئے اگر اب اپ میرے موکل کے پیسے واپس نہ کیے تو اپ کے خلاف دیوانی واہ فوجداری اور دیگر قانونی کاروائی کرنے کا حق میرا موکل رکھتا ہے لہذا 15 یوم کے اندر میرے موکل کی رقم واپس کرے گا لیگل نوٹس کا جواب دے جس کی بابت اپ کو ایک عدد لیگل نوٹس مورخہ 09-04-26 کو ارسال کیا جا رہا ہے اور ایک عدد عکسی نقل دفتر ہذا میں محفوظ کی جاتی ہے ۔



لیگل نوٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اگاہ کرنا کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکتی ہے بعض لیگل لوٹس میں 15 دن کا وقت دیا جاتا ہے اور بعض لیگل نوٹس میں 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے جس میں دوسری پارٹی کو لیگل نوٹس کا جواب دینا ہوتا ہے یا پھر اس بندے کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے ہوتے ہیں اور اگر ان دونوں میں سے کوئی کام نہ کیا جائے تو لیگل نوٹس بھیجنے والا شخص مکمل حق رکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی قانونی کاروائی دوسرے شخص کے خلاف کر سکتا ہے ۔




            از دفتر: چوہدری ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ضلع کچہری ۔۔۔


بنام: عبدالغفار ولد امیر احمد قوم ارائیں ساکن تحصیل و ضلع ۔۔۔


 منجانب: فیض الحسن ولد عاشق حسین سکنہ تحصیل وضلع ۔۔۔



                             *لیگل نوٹس*



ہر گاہ میرے موکل اپ کو بذریعہ لیگل نوٹس اطلاع دی جاتی ہے کہ میرے موکل نے مجھے کونسل مقرر کر کے ہدایت کیا کہ میرے موکل نے اپ سے ایک عدد پلاٹ بروئے نقل رجسٹر حق داران سال 2009 سے 12 جاری شدہ 07-10-2025 کے مطابق ایک پلاٹ بقیہ ماہ چار دیواری مندرجہ کھیوٹ نمبر ۔۔۔ کھتونی نمبر ۔۔۔ خسرہ نمبر ۔۔۔ رقبت اتی سات مرلے 96 مربع فٹ سالن کھاتہ واقعہ چک نمبر 42 شمالی بلاک F تحصیل واضلع ۔۔۔ کا مالک بلا شرکت دیگرے کا ہے جو کہ میرے موکل نے ایک کروڑ 13 لاکھ 97 ہزار خرید کیا جو کہ اقرار نامے کے مطابق بیانہ ادا کر چکے ہیں اور بقیہ رقم میرا موکل ادا کرنے کو تیار ہے اپ نے اپنی بقیہ رقم میرے موکل سے وصول کریں اور رجسٹری و انتقال میرے موکل کے ذمے کرے اور اگر اپ مقررہ تاریخ تک بقیہ رقم وصول نہ کرتے ہیں تو میرا موقل کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ اپ کے خلاف قانونی دیوانی ہر قسم کی قانونی کاروائی کر سکتا ہے۔


لیگل نوٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اگاہ کرنا کہ اس کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکتی ہے بعض لیگل لوٹس میں 15 دن کا وقت دیا جاتا ہے اور بعض لیگل نوٹس میں 30 دن کا وقت دیا جاتا ہے جس میں دوسری پارٹی کو لیگل نوٹس کا جواب دینا ہوتا ہے یا پھر اس بندے کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے ہوتے ہیں اور اگر ان دونوں میں سے کوئی کام نہ کیا جائے تو لیگل نوٹس بھیجنے والا شخص مکمل حق رکھتا ہے کہ وہ ہر قسم کی قانونی کاروائی دوسرے شخص کے خلاف کر سکتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

  کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ Transfer a case پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے  بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے سیشن کورٹ کے پاس تمام ماتحت عدالتوں کے اختیارات ہوتے ہیں ماتحت عدالتوں میں فیملی عدالتیں دیوانی عدالتیں اور مجسٹریٹ کی عدالتیں ہوتی ہیں جب دیوانی عدالتوں میں کیس ڈگری...

CRIMINAL LAW CASE CITATIONS

 CRIMINAL LAW CASE CITATIONS MLD = MONTHLY LAW DIGEST  PCRLJ = PAKISTAN CRIMINAL LAW JOURNAL  SCMR = SUPREME COURT MONTHLY REVIEW  PLD = PAKISTAN LAW DIGEST  YLR = YEARLY LAW REPORTER CLC = CIVIL LAW CASES  KLR = KARACHI LAW REPORTS NLR = NATIONAL LAW REPORTER PLJ = PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS PLJ (CR.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CRIMINAL CASES PLJ (CIV.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CIVIL CASES SCJ = SUPREME COURT JOURNAL  P CR. = PAKISTAN CRIMINAL CASES ALD = ALMI LAW DIGEST  PLR = PAKISTAN LAW REPORTS PLJ (REV) PLJ REVENUE CASES CITATIONs Image generated using AI tools for informational use only EX. 2025 MLD 1502 2025 = یہ وہ سال ہے جس میں کیس کا فیصلہ ہوا اور رپورٹ  شائع ہوئی MLD = یہ وہ جرنل یا کتاب ہے جس میں فیصلہ شائع ہوا  1502 = اس جرنل یا کتاب کے اندر صفحہ نمبر جہاں سے کیس شروع ہوتا ہے  COURT = HIGH COURT , SUPREME COURT عدالت میں ایسے حوالوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مائی لارڈ اس نوعیت کا فیصلہ MLD 1502 2025 می...

CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT

 CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT 1908 CONDONATION OF DELAY   کنڈونیشن اف ڈیلے اس قانونی جملے کا مطلب ہے کہ کسی قانونی کاروائی میں اپ لیٹ ہو جائیں جیسے مثال کے طور پر اپ نے ایک کام 9 جولائی 2025 کو کرنا تھا مگر کچھ ایسی وجوہات اگئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر اپ وہ کام نہیں کر سکے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد جب اپ کی وہ ٹھوس وجوہات مجبوریاں ختم ہوئی تو اپ نے وہ کام کیا جو اپ کرنا چاہ رہے تھے تو اسی طرح عدالتی کاموں میں بھی ایک کام جو مثال کے طور پر 9 جولائی کو ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب اس کو ہم 1 اگست کو کرتے ہیں تو اس طرح جو درمیان میں Gap اگیا ہے وقت کا اس وقت کو اب عدالت میں explain کرنا ہے کہ ہم اتنے دن کہاں رہے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اسے condonation of delay کہتے ہیں SECTION 5 OF LIMITATION ACT 1908 کنڈونیشن اف ڈیلے کو لیمیٹیشن ایکٹ کا سیکشن 5 ڈیل کرتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ہے یا اپیل کنندہ درخواست عدالت میں جمع کروانے یا اپیل عدالت میں کرنے سے تاخیر کر گیا ہے  EXAMPLE: مطلب مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک مخصوص جگہ 10 دن کے اندر پہنچنا تھا مگ...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU

 SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU 1: ناجائز اسلحہ کی روک تھام کیلئے Punjab Arms Ordinance میں انقلابی ترامیم۔ انتہائی سخت سزائیں اور انتہائی بھاری جرمانہ۔ Punjab Arms (Amendment) Act 2025 (XLI of 2025). غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ دس لاکھ۔ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا چار سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا دس سال کم از کم سزا سات سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ دو ممنوعہ یا پانچ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ 14  سال کم از کم سزا دس سال کم از کم جرمانہ تیس لاکھ 2. زنا بالجبر گینگ ریپ کیس میں پولیس کے بے گناہ کرنے کی بنا پر ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار نہ ہوگا  مطلب اگر زنا بالجبر کسی نے زبردستی کسی خاتون کے ساتھ زنا کی ہے اور اوپر سے وہ گینگ مطل...