Skip to main content

کیا سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

 

کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

Transfer a case

پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے 

بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے


سیشن کورٹ کیا ہے


سیشن کورٹ کا ذکر مختلف قانونی کتب میں ایا ہے بعض کتب میں سیشن کورٹ اور بعض میں سیشن ججز کا ذکر ایا ہے بالکل اسی طرحThe code of criminal procedure 1898 کے سیشن 9میں بیان کیا گیا ہے کہ سیشن کورٹ کیا ہے اس کی پاورز کیا ہیں ججز کی سلیکشن کیسے ہوتی ہے۔سیشن 9 میں ہمیں بتایا ہے کہ صوبائی حکومت ہر ضلع/تحصیل میں ایک سیشن کورٹ بناتی ہے جس میں ججز کی بھرتی کی جاتی ہے جب بھی کوئی نیا شہر اباد ہوتا ہے تو وقت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کورٹس کا اغاز کیا جاتا ہے اسی طرح جب سیشن کورٹ بنائی جاتی ہے تو اس کے لیے وہاں ایڈیشنل سیشن ججز کی بھرتی کا اصول بھی بنایا جاتا ہے پھر مجسٹریٹ فیملی ججز سول ججز سب کی بھرتی کا اعلان کیا جاتا ہے


سیکشن 17 میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام مجسٹریٹ سیکشن 12، 14 اور 14 Aکے تحت منتخب کیے جاتے ہیں۔تمام مجسٹریٹ جو سیشن جج کے ماتحت ہوتے ہیں وہ تمام ججز سیشن جج کی پرمیشن کے تحت ہائر کیے جاتے ہیں سیکشن 15 میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ تمام بینچز جو سیشن جج کے ماتحت ہوتے ہیں انہیں سیکشن 15 کے تحت بنایا جاتا ہے سیشن جج صاحب کی پرمیشن کے تحت بینچز کو بنایا جاتا ہے


تمام ایڈیشنل اور اسسٹنٹ سیشن جج حضرات (سیشن جج) کہ ماتحت کام کرتے ہیں اگر کسی دن سیشن جج چھٹی پر ہو تو ان کے ماتحت ایڈیشنل اور اسسٹنٹ سیشن جج میں سے کسی سینیئر جج صاحب کو سیشن کا عہدہ دے کر کام کروایا جاتا ہے یہ تمام باتیں the code of criminal procedure 1898 کے تحت سیکشن 17 میں درج کی گئی ہیں


سیکشن 192 

سیکشن 192 اس بات کو بیان کرتا ہے کہ سیشن جج صاحب کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ اپنے ضلعے کے اندر وہ کسی بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کا کیس دوسرے جوڈیشل مجسٹریٹ کو ٹرانسفر کر سکتا ہے جس ضلعے میں سیشن جج ہو ضلعے کا کیس ایک مجسٹریٹ سے دوسرے مجسٹریٹ کو ٹرانسفر کر سکتا ہے


سیشن جج/ایڈیشنل سیشن جج/اسسٹنٹ سیشن جج


سیشن جج صاحب کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ ہائی کورٹ کی ڈائریکشن کو مد نظر رکھتے ہوئے سزائے موت کا حکم دے سکتے ہیں سزائے موت کی سزا سیشن جج اور عمر قید کی سزا سیشن جج دے سکتا ہے


سیشن کورٹ کے پاس تمام ماتحت عدالتوں کے اختیارات ہوتے ہیں

ماتحت عدالتوں میں فیملی عدالتیں دیوانی عدالتیں اور مجسٹریٹ کی عدالتیں ہوتی ہیں جب دیوانی عدالتوں میں کیس ڈگری ہوتا ہے دلائل سڑنے کے بعد جب جج صاحبان کسی کیس کا فیصلہ کرتے ہیں تو اگر کسی پارٹی کا وہ فیصلہ نہ منظور ہو تو وہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے پاس اپیل کر سکتا ہے جن میں زمینوں کے کیسز شامل ہوتے ہیں ڈال دو میں فیصلے کی رفتار بڑی سست ہوتی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بڑے سوچ و بچار کے بعد دیوانی فیصلوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے کیوں کہ اس میں مہربان کیس کو لٹکانے کے لیے نت نہیں درخواست عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں جس سے عدالت ان درخواستوں کا جواب دوسرے کونسل صاحب سے طلب کرتی ہے اس طرح دیوانی کیسز بہت لمبے چلتے ہیں 

بالکل اسی طرح جب ایک مجسٹریٹ کے پاس چوری ڈکیتی کا تل لڑائی جھگڑا زنا اغوا اس طرح کے کیسز اتے ہیں تو علاقے کا ایک مجسٹریٹ ان کیسز کو سنتا ہے اسی طرح اگر 22 بی 22 اے دائر کی جاتی ہے جس میں ایس پی کمپلینٹ سیل کمپلینٹ کی بات سنتا ہے اور اپنی فائنڈنگ ایڈیشنل سیشن کے پاس بھیجتا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے متحد ایک ایڈیشنل سیشن جج ہوتا ہے جو بھائی سے 22 بی کے سیشن ٹرائل سنتا ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈسٹرکٹ لیول پر بیٹھتا ہے اور یہ ایک پورے ڈسٹرکٹ کا ہیڈ ہوتا ہے سبھی عدالتیں اس کے ماتحت ہوتی ہیں اور جج صاحب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب کسی بھی عدالت کا ارڈرڈ اور انسپیکشن کر سکتے ہیں اور انہیں انسٹرکشنز دے سکتے ہیں کہ اپ انصاف کو بہتر طریقے سے لوگوں میں فراہم کرنے کے لیے اچھے اچھے اقدامات اٹھائیں اور انہیں سمجھا سکتے ہیں


ہائی کورٹ کے اختیارات 

ہائی کورٹ کو سمجھنے کے لیے ائین پاکستان کو پڑھنا اور سمجھنا ہوگا 

ہائی کورٹ ہر صوبہ میں ایک ہوتی ہے مگر پاکستان میں پانچ ہائی کورٹس ہیں 

لاہور ہائی کورٹ 

سندھ ہائی کورٹ 

پشاور ہائی کورٹ 

بلوچستان ہائی کورٹ 

اسلام اباد ہائی کورٹ


ائین پاکستان کا ارٹیکل 192 سے لے کر 203 تک ہائی کورٹ کا سارا نظام بیان کرتا ہے کہ ہائی کورٹ کس طرح بنی ؟سے لے کر ہائی کورٹ اپنے سے نچلی عدالتوں کا نظام کیسے چلاتی ہے؟


ارٹیکل 192 کے تحت ہائی کورٹ میں ایک چیف جسٹس اور بہت سارے دوسرے ججز شامل ہوتے ہیں جب ارٹیکل 192 کو متعارف کروایا گیا تو سندھ اور بلوچستان کی الگ الگ ہائی کورٹس بنی اس سے پہلے سندھ اور بلوچستان کے لیے ایک ہی ہائی کورٹ تھی صدر کے حکم پر دونوں صوبوں کی کورٹس کو الگ الگ کیا گیا پھر دونوں صوبوں کے ججز کی ٹرانسفر کی گئی مطلب سندھ کے ججز کی سندھ ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کی گئی اس طرح بلوچستان کے ججز کی بلوچستان ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کی گئی بالکل اسی طرح جو کیسز سندھ کے حوالے سے تھے اور جو کیسز بلوچستان کے حوالے سے تھے دونوں کا ٹرانسفر کیا گیا


ارٹیکل 193 

ارٹیکل 193 ہمیں اس بات کی اگاہی کرتا ہے کہ تمام چیف جسٹس اور دوسرے ججز صدر کے کہنے پر منتخب ہوتے ہیں جب بھی کسی صوبے میں نئی ہائی کورٹ کا انتخاب ہوتا ہے تو وہاں چیف جسٹس اور دوسرے ججز صدر پاکستان کے کہنے پر منتخب ہوتے ہیں اور اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں ہائی کورٹ کے جج کے انتخاب کے لیے اس کی عمر 45 سال سے کم نہ ہو


ارٹیکل 194 

ارٹیکل 194 اس بات کو ڈیل کرتا ہے کہ چیف جسٹس گورنر کے سامنے حلف برداری کرے گا اور تمام دوسرے ججز ہائی کورٹ کے ججز چیف جسٹس کے سامنے حلف برداری کریں گے مگر سوال یہ ہے کہ اسلام اباد کا چیف جسٹس کس کے سامنے حلف لے گا؟

اسلام اباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس صدر پاکستان کے سامنے حلف لے گا اور دوسرے ججز چیف جسٹس کے سامنے حلف لیں گے


ارٹیکل 195 

ارٹیکل 195 اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 62 سال کی عمر میں ہائی کورٹ کے ججز ریٹائرڈ ہو سکتے ہیں


ارٹیکل 196

ارٹیکل 196 اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے چیف جسٹس کی سیٹ خالی ہو جائے تو صدر پاکستان کی مشاورت سے چیف جسٹس کی جگہ ہائی کورٹ کے کسی دوسرے جج کو چیف جسٹس بنایا جا سکتا ہے دوسرے اپشن میں سپریم کورٹ کے کسی جج کو ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنایا جا سکتا ہے


ہائی کورٹ کے پاس آئینی اختیارات 

ہائی کورٹ کے پاس بہت سے اختیارات ہیں جن میں سے ائینی اختیارات کا استعمال ائین کی کتاب کو مد نظر رکھتے ہوئے رٹ 199 کے تحت کی جاتی ہے جس میں ہائی کورٹ کسی شخص کی رہائی کا حکم دے سکتا ہے کسی شخص کو نظر بند کرنے کا حکم دے سکتا ہے سرکاری ملازمین صوبائی لیول پر تنخواہ بڑھانے کا حکم بھی دے سکتا ہے صوبائی لیول پر ہائی کورٹ کسی ملازم کو عہدے سے ہٹانے یا عہدے پر ترقی دینے کا اختیار بھی رکھتا ہے ہائی کورٹ کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ اگر صوبائی لیول پر کسی ووٹر کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو وہ ہائی کورٹ میں رٹ کر سکتا ہے ائین پاکستان 1973 کے ارٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں رٹ کر سکتا ہے ہائی کورٹ میں پانچ قسم کی ریٹیں کی جا سکتی ہیں جو کہ زیل میں بتائی جا رہی ہیں

1: Habeas Corpus

2: Mandamus

3: Prohibition 

4: Certiorari

5: Quo Warranto

یہ پانچ قسم کی ریٹ ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی حراست میں نہیں رکھا جا سکتا اب ایسی بات سورتوں میں پولیس والے کسی کو پکڑ کے لے اتے ہیں اس کی بندی نہیں ڈالتے اسے تھانے میں ہی رکھتے ہیں یا پھر اس کو جب اس کا اندراج نہیں کرتے اور اسے 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش نہیں کرتے یا دو تین دن تک اپنی کسٹڈی میں رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں ہائی کورٹ میں رٹ کی جا سکتی ہے یا پھر کسی سرکاری ملازم کو یا کسی ڈیپارٹمنٹ کو کوئی حکم دیا جائے کہ وہ یہ کام کرے اگر وہ نہ کرے تو ہائی کورٹ میں رٹ کی جا سکتی ہے اس کے بعد ہائی کورٹ کسی ماتحت عدالت کو کوئی کام کرنے کا حکم دے سکتے ہیں کسی کام سے منع روکنے کا حکم بھی دے سکتی ہے اسی طرح ہائی کورٹ کسی ادارے کے حکم کی تردید بھی کر سکتی ہے یا اسے کلعدم قرار بھی دے سکتی ہے جو کہ غیر ائینی غیر قانونی طور پر کیا گیا ہو ایسے فیصلے کے خلاف بھی ہائی کورٹ میں رٹ کی جا سکتی ہے اس کے بعد ہائی کورٹ کے پاس یہ بھی اختیار رہتا ہے کہ وہ کسی بھی ملازم کوئی یا کسی بھی عہدے دار شخص کو یہ پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس حیثیت سے عہدے پر بیٹھا ہوا ہے اور کام کر رہا ہے


ملک پاکستان میں پانچ ہائی کورٹ ہیں

ملک پاکستان میں پانچ ہائی کورٹ ہیں ویسے تو ہر صوبے میں ایک ایک ہائی کورٹ ہے جیسے کہ

 بلوچستان ہائی کورٹ

سندھ ہائی کورٹ 

پنجاب ہائی کورٹ 

خیبر پختو خواں ہائی کورٹ 

اور اسلام اباد ہائی کورٹ 

سب ہائی کورٹ میں ریٹ ائین پاکستان 1973 کے ارٹیکل 199 کے تحت ریٹ کی جاتی ہے اس میں کسی شخص کی غیر قانونی گرفتاری پر بھی رٹ ہو جاتی ہے 

کسی شخص کے ناجائز اختیارات کے خلاف حقوق تحفظ حاصل کرنے کے لیے بھی ہائی کورٹ میں رٹ کی جا سکتی ہے جس میں ہائی کورٹ کسی بھی شخص کسی بھی ادارے کسی بھی کمپنی کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیصلہ سنا سکتی ہے پھر اس کے بعد اتی ہے ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ


سیشن کورٹ کے کیس ٹرانسفر کرنے کے اختیارات

سیشن کورٹ ضلع کی سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے اسے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب سنبھالتے ہیں سیشن کورٹ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں مگر محدود ہوتے ہیں سیشن کورٹ ایک ضلع سے دوسرے ضلع یا ایک تحصیل سے دوسری تحصیل میں کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتے

مگر ہاں البتہ اپنے ہی ضلع میں ایک عدالت سے دوسری عدالت میں کیس ٹرانسفر کر سکتی ہے 

اس معاملے میں ضابطہ دیوانی اور ضابطہ فوجداری کے مختلف سیکشنز کے تحت کیس ایک عدالت سے دوسری عدالت میں ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے جیسا کہ دیوانی کیس ہو تو اسے ضابطہ دیوانی کے سیکشن 24 کے تحت اپنے ہی ضلع کی ایک عدالت اور وہ عدالت دیوانی عدالت ہو تو ایک دیوانی عدالت سے دوسری دیوانی عدالت میں کیس ٹرانسفر کر سکتا ہے اور اگر ڈسٹرکٹ ڈسٹرکٹ جج کو یہ لگے کہ یہ کیس میرے پاس زیادہ بہتر طریقے سے حل ہو سکتا ہے 

مثال کے طور پر 

ایک دیوانی کے اس میں دونوں وکلا صاحبان ہوں اور وکلا صاحبان کے ذاتی کیس ہو تو وہاں عدالت میں امن کا خطرہ رہتا ہے اس صورتحال میں ڈسٹرکٹ سیشن جج ایسا کیس اپنے پاس بھی رکھ سکتا ہے یا اور بھی صورتحال میں ڈسٹرکٹ سیشن جج اپنے پاس کیس رکھ سکتا ہے 

اسی طرح سیشن جج ضابطہ فوجداری کے سیکشن 528 کے تحت ایک مجسٹریٹ سے دوسرے مجسٹریٹ کو فوجداری کیس ٹرانسفر کر سکتا ہے یا ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے دوسرے سیشن جج کی عدالت کو کیس ٹرانسفر کر سکتا ہے اور یہ اختیارات ضابطہ فوجداری کے سیکشن 528 کے تحت سیشن جج کو حاصل ہے 

بعض صورتوں میں ایک کیس جو ضلع بھلوال میں دائر ہونا تھا مگر وہ کیس شاہپور میں دائر کر دیا گیا ایسی صورتحال میں ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں کس ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے مگر صرف اس صورتحال میں 

باقی ایک ضلعے سے دوسرے ضلعے میں کیس ٹرانسفر کرنے کا اختیار صرف ہائی کورٹ کے پاس ہے


                 PLD 2025 LAHORE 98

ہائی کورٹ کے پاس اختیارات بہت وسیع ہیں سیشن کورٹ کی طرح ہائی کورٹ کے اختیارات میں دودھ نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر ہے ہائی کورٹ ایک ضلعے سے دوسرے ضلعے یا ایک تحصیل سے دوسری تحصیل میں کہ کیس ایزیلی ٹرانسفر کر سکتی ہے 
ضابطہ فوجداری اور ضابطہ دیوانی کے مختلف سیشنز کے تحت ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیارات ہیں کہ وہ ایک ضلعے سے دوسرے ضلعے میں کیس ٹرانسفر کر سکتی ہے لیکن اس کے لیے مخصوص وجوہات یا ٹھوس وجوہات بیان کرنی ہوں گی مثال کے طور پر 
اگر کسی کی خاندانی دشمنی ہو اور اسے اس ضلعے میں خوف خطرہ ہو کہ اس کی جان کو وہاں پر خطرہ ہے تو وہ ہائی کورٹ میں رٹ کر سکتا ہے اسی طرح اگر کسی کو خرچہ ہو کے وہاں اسے انصاف کی فراہمی ہے نہیں ملے گی تو ایسی صورت میں بھی وہ ہائی کورٹ سے التجا کر سکتا ہے کہ اس کا کیس ٹرانسفر کیا جائے 
ہائی کورٹ اس صورت میں بھی کیس ٹرانسفر کر سکتا ہے کہ اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ گواہوں پر دباؤ ہے اور گواہ دباؤ میں ا کر فیئر ٹرائل نہیں کر سکتے یا پھر یہ بھی کہ اسے فیئر ٹرائل اس متاثرہ شخص کو فیئر ٹرائل نہ مل رہا ہو ایسی صورت میں بھی ہائی کورٹ کے پاس اختیار کہ وہ کیس ٹرانسفر کر سکتی ہے

اسی طرح دیوانی کیسز میں بھی اگر خدشہ ہو وہاں پٹواری یا عدالتی عملہ پہلے سے فکسڈ ہے تو ایسی صورت میں بھی ہائی کورٹ میں درخواست دی جا سکتی ہے کہ کیس اس ضلع یا اس تحصیل سے ٹرانسفر کر دیا جائے عموما ہائی کورٹ یہ اختیارات رکھتی ہیں کہ وہ ایک ضلع یا ایک تحصیل سے کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے

Comments

Popular posts from this blog

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

CRIMINAL LAW CASE CITATIONS

 CRIMINAL LAW CASE CITATIONS MLD = MONTHLY LAW DIGEST  PCRLJ = PAKISTAN CRIMINAL LAW JOURNAL  SCMR = SUPREME COURT MONTHLY REVIEW  PLD = PAKISTAN LAW DIGEST  YLR = YEARLY LAW REPORTER CLC = CIVIL LAW CASES  KLR = KARACHI LAW REPORTS NLR = NATIONAL LAW REPORTER PLJ = PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS PLJ (CR.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CRIMINAL CASES PLJ (CIV.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CIVIL CASES SCJ = SUPREME COURT JOURNAL  P CR. = PAKISTAN CRIMINAL CASES ALD = ALMI LAW DIGEST  PLR = PAKISTAN LAW REPORTS PLJ (REV) PLJ REVENUE CASES CITATIONs Image generated using AI tools for informational use only EX. 2025 MLD 1502 2025 = یہ وہ سال ہے جس میں کیس کا فیصلہ ہوا اور رپورٹ  شائع ہوئی MLD = یہ وہ جرنل یا کتاب ہے جس میں فیصلہ شائع ہوا  1502 = اس جرنل یا کتاب کے اندر صفحہ نمبر جہاں سے کیس شروع ہوتا ہے  COURT = HIGH COURT , SUPREME COURT عدالت میں ایسے حوالوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مائی لارڈ اس نوعیت کا فیصلہ MLD 1502 2025 می...

CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT

 CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT 1908 CONDONATION OF DELAY   کنڈونیشن اف ڈیلے اس قانونی جملے کا مطلب ہے کہ کسی قانونی کاروائی میں اپ لیٹ ہو جائیں جیسے مثال کے طور پر اپ نے ایک کام 9 جولائی 2025 کو کرنا تھا مگر کچھ ایسی وجوہات اگئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر اپ وہ کام نہیں کر سکے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد جب اپ کی وہ ٹھوس وجوہات مجبوریاں ختم ہوئی تو اپ نے وہ کام کیا جو اپ کرنا چاہ رہے تھے تو اسی طرح عدالتی کاموں میں بھی ایک کام جو مثال کے طور پر 9 جولائی کو ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب اس کو ہم 1 اگست کو کرتے ہیں تو اس طرح جو درمیان میں Gap اگیا ہے وقت کا اس وقت کو اب عدالت میں explain کرنا ہے کہ ہم اتنے دن کہاں رہے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اسے condonation of delay کہتے ہیں SECTION 5 OF LIMITATION ACT 1908 کنڈونیشن اف ڈیلے کو لیمیٹیشن ایکٹ کا سیکشن 5 ڈیل کرتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ہے یا اپیل کنندہ درخواست عدالت میں جمع کروانے یا اپیل عدالت میں کرنے سے تاخیر کر گیا ہے  EXAMPLE: مطلب مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک مخصوص جگہ 10 دن کے اندر پہنچنا تھا مگ...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU

 SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU 1: ناجائز اسلحہ کی روک تھام کیلئے Punjab Arms Ordinance میں انقلابی ترامیم۔ انتہائی سخت سزائیں اور انتہائی بھاری جرمانہ۔ Punjab Arms (Amendment) Act 2025 (XLI of 2025). غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ دس لاکھ۔ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا چار سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا دس سال کم از کم سزا سات سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ دو ممنوعہ یا پانچ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ 14  سال کم از کم سزا دس سال کم از کم جرمانہ تیس لاکھ 2. زنا بالجبر گینگ ریپ کیس میں پولیس کے بے گناہ کرنے کی بنا پر ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار نہ ہوگا  مطلب اگر زنا بالجبر کسی نے زبردستی کسی خاتون کے ساتھ زنا کی ہے اور اوپر سے وہ گینگ مطل...