Provincial Insolvency Act 1920 ( دیوالیہ )
جب کسی شخص کو کاروبار میں مکمل نقصان ہو جائے تو وہ عدالت سے کس طرح ریلیف لے ؟
بعدالت دیوانی۔۔۔
غفور احمد ولد میاں محمد سکنہ۔۔تحصیل و ضلع ۔
بنام
احمد شیر ولد فضل احم
افضل احمد ولد میاں محمد
درخواست بمراد قرار دیے جانے دیوالیہ سائل زیر دفع ایکٹ
Provincial insolvency act 1920
جناب عالی
سائل حسب زیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ سائل مذکورہ بالا پتہ کا رہائشی اور سکونتی ہے
2: یہ کہ سائل مال مویشی کا بیوپار کرتا تھا جو کہ سائل نے مئسول علیہان سے مال مویشی لیے سائل نے مسئول علیہان کے علاوہ بھی کچھ لوگوں سے مال مویشی خرید کیے تھے جن کو سائل نے مسئول علیہان کے علاوہ بھی کچھ لوگوں سے خرید کیے تھے مال مویشی ۔جن کو سائل نے اپنا پلاٹ اور دیگر قیمتی سامان فروخت کر کے رقم ادا کر دی ہے جبکہ ملکی حالات کی وجہ سے سائل کو کاروبار میں بہت زیادہ نقصان ہو گیا ہے اور سائل کا سارا پیسہ ڈوب گیا ہے سائل نے اپنی تمام تر جائداد منقولہ و غیر منقولہ جائیداد فروخت کر کے کچھ لوگوں کو پیسے ادا کر دیے تھے اب سائل کے پاس اپنے رہنے کے لیے چھت بھی نہ ہے اور سائل نے اپنے طور پر بہت کوشش کی ہے کہ من سائل مسؤل علیہم کو رقم ادا کرے لیکن سائل اب حلفاً اس پوزیشن میں نہ رہا ہے کہ سائل اب کچھ بھی رقم ادا کر سکے من سائل اب ہر طرح سے کنگال ہو چکا ہے پائی پائی کا محتاج ہو چکا ہے اب سائل کے پاس منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بھی نہ ہے سائل نے درخواست کے ساتھ بیان حلفی بھی لف کر دیا ہے اب سائل نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے سائل اب مئسول علیہم کی رقم کی ادائیگی کے قابل بھی نہ ہے سائل کے پاس اب کچھ بھی نہ بچا ہے سائل اب کسی سے عارضی طور پر مکان لے کر رہائش پذیر ہے من سائل اب بڑی مشکل سے اہل علاقہ و عزیز و اقارب کی امداد سے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے سائل کو عدالت جناب دیوالیہ قرار دے۔
3: یہ کہ سائل نے مسئول علیہم سے مال مویشی خریدے تھے اور سائل نے مسئول علیہم کے علاوہ بھی لوگوں سے مال خریدا ہوا تھا جن کی ادائیگی من سائل نے کی لیکن اب سائل بالکل کنگال ہو چکا ہے اور ادائیگی کرنے کے قابل نہ ہے سائل کا مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے
4: یہ کہ سائل اپنے بیوی بچوں کی کفالت بڑی مشکل سے کر رہا ہے اور اب سائل اس پوزیشن میں بھی نہ ہے کہ ان کو دو وقت کی روٹی بھی دے سکے سائل بھوک اور فاقے میں سائل کے گھر والوں کی ترستی نگاہیں جو کہ سائل سے دو وقت کی روٹی کا تقاضا کرتی ہیں مگر سائل مجبور ہے اور رزق حلال کے لیے اللہ تعالی کے دربار میں دعا گو ہے سائل اب ذہنی طور پر بھی مفلوج ہو چکا ہے ہر وقت اسی ٹینشن میں رہتا ہے اور مسئول علیہم جو کہ سائل کے حالت سے اچھی طرح واقف ہے مگر اس کے باوجود من سائل کو دھمکیاں دیتے ہیں اور بذریعہ پولیس تنگ و پریشان کرتے ہیں اس لیے جواب دہ درخواست ھذا ہے
5: یہ کہ سائل اس امید پر ہے کہ شاید اس کے حالات اچھے ہو جائیں اور سائل مسول علیہم کی رقم ادا کر دے مگر سائل کے حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں سائل کو رقم کی ادائیگی کا کوئی ذریعہ نظر نہ ا رہا ہے سوائے اللہ تعالی کی ذات کے جو انسان پر کسی بھی وقت اپنی رحمت کر سکتی ہے بے شک اللہ تعالی کی ذات بڑی رحیم و شفیق ہے
6: یہ کہ بنائے درخواست مسئول علیہم کے اخری انکار ایک ہفتہ قبل سے پیدا ہو کر یوماً فیوماً جاری و ساری ہے
7: یہ کہ رہائش فریقین من مدعی اندر حدود عدالت دیوانی ہے لہذا عدالت حضور کو اختیار سماعت دعوی ہذا حاصل ہے
8: یہ کہ کورٹ فیس درخواست ھذا پر چسپاں کر دی گئی ہے
بحالات بالا استدا ہے کہ درخواست بحق سائل
برخلاف موصول علیہم منظور فرمائی جائے
جو کہ قرین انصاف ہوگا
...تصدیق بمقام
بعدالت دیوانی۔۔۔
غفور احمد ولد میاں محمد سکنہ۔۔تحصیل و ضلع۔۔۔
بنام
احمد شیر ولد فضل احمد
افضل احمد ولد میاں محمد
درخواست بمراد قرار دیے جانے دیوالیہ سائل زیر دفع ایکٹ
Provincial insolvency act 1920
جناب عالی
سائل حسب زیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ سائل مذکورہ بالا پتہ کا رہائشی اور سکونتی ہے
2: یہ کے سائل پل 111 جنوبی پر پتھر کا کام کرتا تھا جس سے سائل اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا تھا مگر سائل کا کاروبار مسلسل گھاٹے میں ہوتا گیا سائل نے بہت کوشش کی کہ سائل کا کاروبار بہتر سے بہتر چل سکے مگر بدقسمتی سے سال کا کاروبار صحیح نہ چل سکا سائل نے کاروبار کو سنبھالنے کے لیے مسئول علیہم سے مشینری رینٹ پر لی جس کا کچھ رینٹ دینا باقی ہے۔ سائل نے کاروبار کو چلانے کی بہت کوشش کی مگر تمام کوششیں بیکار ہوئیں اخر کار ملکی حالات خراب ہونے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو گیا بلکہ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ کاروبار بند کرنا پڑ گیا سائل مسؤل علیہم کی رقم ادا کرنے کے وسائل نہ رکھتا ہے سائل مالی طور پر کنگال ہو چکا ہے اور پائی پائی کا محتاج ہے سائل کی اپنی کوئی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد نہیں ہے سائل نے بیان حلفی درخواست کے ساتھ لف کر دیا ہے سائل نے اپنے اپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے سائل مسول علیہم کی رقم ادا نہ کر سکتا ہے سائل کو دیوالیہ قرار دیا جائے سائل کرائے کے مکان میں رہتا ہے ۔
3: یہ کہ سائل نے مسئول علیہم کی مشینری کو پتھر کے کام میں بطور رینٹ کے طور پر استعمال کیا تھا سائل نے مسئول علیہم کی رینٹ کی مد میں مسئول علیہم کو کچھ رقم ادا کر دی ہے اور بقیہ کچھ رقم ادا کرنی باقی ہے
4: یہ کہ سائل اپنے گھر والوں کی کفالت کرتا ہے سائل اس پوزیشن میں بھی نہ ہے کہ ان کو دو وقت کی روٹی فراہم کر سکے بھوک اور فاقے کا عالم ہے سائل کے گھر والوں کی ترستی نگاہیں جو سائل سے دو وقت کی روٹی کا تقاضا کرتی ہے مگر سائل مجبور ہے اور رزق حلال کے لیے اللہ تعالی سے دعا گو ہے سائل ذہنی طور پر مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے مسئول علیہم سائل کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے پھر بھی سائل کو دھمکیاں دیتے ہیں اور بذریعہ پولیس بھی تنگ و پریشان کرتے ہیں مسئول علیہم کوئی دوسرا غیر قانونی طریقہ اختیار کر کے سائل کو تنگ و پریشان کر رہے ہیں اس لیے جواب دہ درخواست ھذا ہے۔
5: یہ کہ سائل اس امید پر ہے کہ شاید حالات اچھے ہو جائیں اور سائل رقم ادا کر دے مگر حالات دن بدن پہلے سے بھی بدتر ہو رہے ہیں سائل کو رقم کی ادائیگی کا کوئی ذریعہ نظر نہ ارہا ہے اس لیے سائل کو دیوالیہ قرار دیا جائے۔
6: یہ کہ بنائے درخواست مسئول علیہم کے اخری انکار ایک ہفتہ قبل سے پیدا ہو کر یوماً فیوماً جاری و ساری ہے
7: یہ کہ رہائش فریقین من مدعی اندر حدود عدالت دیوانی ہے لہذا عدالت حضور کو اختیار سماعت دعوی ہذا حاصل ہے
8: یہ کہ کورٹ فیس درخواست ھذا پر چسپاں کر دی گئی ہے
تصدیق بمقام
بحالات بالا استدا ہے کہ درخواست بحق سائل برخلاف موصول علیہم منظور فرمائی جائے جو کہ قرین انصاف ہوگا

Comments
Post a Comment