بیوی کو اباد کیسے کیا جاتا ہے ؟ اگر بیوی ناراض ہو کر چلی جائے تو شوہر کون سا کیس کرے گا ؟ فیملی عدالت کس طرح مدعیہ کا خرچہ بڑھاتی ہے ؟
بیوی کو اباد کیسے کیا جاتا ہے ؟ اگر بیوی ناراض ہو کر چلی جائے تو شوہر کون سا کیس کرے گا ؟ فیملی عدالت کس طرح مدعیہ کا خرچہ بڑھاتی ہے ؟
!: Restitution Of Conjugal Rights
2: Enhancement Of Maintenance
عدالت جناب فیملی جج ضلع ۔۔۔
علی خان ولد اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
بنام
یاسمین دختر راشد سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
جناب عالی
مدعی حسب ذیل عرض گزار ہے
یہ کہ مدعی مذکورہ بالا پتہ کا رہائشی و سکونتی ہے
2: یہ کہ مدعی کی شادی ہمراہ مدعا علیہ مورخہ 20-07-2018 کو ہوئی کیونکہ مد علیہ کے والدین انتہائی غربت اور مفلسی کی زندگی گزار رہے تھے اس لیے بغیر کسی سامان جہیز کے مدعا علیہ کی رخصتی ہوئی بلکہ مدعا علیہ کے والدین کو شادی کے چھوٹے موٹے اخراجات بھی مدعی نے اپنی جیب سے کیے
3: یہ کہ شروع سے ہی تعلقات مابین فریقین اچھے رہے مدعی نے مدعا علیہ کے ہر خواہش کو اپنی خواہش سمجھ کر پورا کیا مدعی کے نطفہ اور مدعا علیہ کے بطن سے ایک بیٹا ۔۔۔ با عمر تقریبا ایک سال دو ماہ پیدا ہوا جو کہ زندہ حیات ہے اور مدعا علیہ کے پاس ہے
4: یہ کہ مورخہ 01-09-2020 کو مدعا علیہ اپنے والدین کے بہکاوے میں اپنے والدین کے پاس گئی جب مدعا علیہ سے واپس گھر آنے کا مطالبہ کیا گیا توصاف انکاری ہو گئی معززین علاقہ سے بھی کہا و کہلوایا مگر مدعا علیہ نے کسی کی بات نہ سنی اور واپس آنے سے انکاری ہو گئی
5: یہ کہ مدعا علیہ اس وقت چھ ماہ کی حاملہ ہے اور وہ حمل ضائع کرنے کے در پہ ہے
6: یہ کہ مدعا علیہ صرف اپنے والدین کے بہکاوے میں ا چکی ہے جبکہ مدعا علیہ کے والد نے اقرار نامہ نمبر 163 مورخہ 05-09-2019 روبرو گواہان تحریر کر کے دیا ہوا ہے کہ اگر وہ اپنی بچی اور بی بی کو غیر اباد کرے گا تو ہرجانہ مبلغ تین لاکھ روپے ادا کرے گا جو کہ اب والد مدعا علیہ قانونا یہ ہرجانہ دینے کا پابند ہے
7: یہ کہ مدعی اب بھی مدعا علیہ سے پیار کرتا ہے اس کے ساتھ گھر بسانا چاہتا ہے مگر مدعا علیہ بضد ہے صاف انکاری ہے جس کی وجہ سے ضرورت دعوی ہذا لاحق ہوئی ہے اور مدعا علیہ جوابدہ دعوی ہذا ہے
8: یہ کہ بنائے دعوی 7 روز قبل پیدا ہو کر یوما فیوماجاری و ساری ہے
9: یہ کہ رہائش فریقین اندر حدود عدالت ہذا ہونے کی وجہ سے عدالت ہذا کو اختیار سماعت حاصل ہے
10: یہ کہ مطلوبہ کورٹ فیس چسپاں کر دی گئی ہے
اندریں حالات ادب سے استدعا ہے کہ دعوی مدعی بحق مدعی بر خلاف مدعا علیہ بمطابق قانون و متن عرضے دعوی ڈگری فرمایا جائے قرین انصاف ہوگا ۔
تصدیق
من مظہر خلفا بیان کرتا ہے کہ جملہ مراتب بالا میرے بہترین علم و یقین کے مطابق صحیح و درست ہے
علی خان ولد اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
Enhancement Of Maintenance
فیملی عدالت کس طرح مدعیہ کا خرچہ بڑھاتی ہے ؟
اس دعوی میں فیملی عدالت نیم مدیہ کے ہاں ایک بچی تھی جس کا خرچہ تین ہزار لگایا گیا کیونکہ اب بچی بڑی ہو چکی تھی اور سکول جانے کے قابل ہو گئی تھی تو مدیہ نے عدالت فیملی میں ایزاد یعنی خرچہ بڑھانے کے حوالے سے فیملی عدالت میں کیس دائر کیا کہ خرچہ بڑھایا جائے اس کی بابت سکیچ نیچے تیار کر دیا گیا ہے
بعدالت جناب فیملی جج سرگودہ1:
بلقیس کوثر دختر دلشاد احمد 2 :ثمینہ ملک سکنہ تحصیل و ضلع ۔۔۔
بنام
مظفر اقبال عرف زاہد اقبال ولد محمد اقبال سکنہ چک نمبر... تحصیل و ضلع....
جناب عالی
مدعیان حسب زیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ من مدیہ کی شادی ہمراہ مدعا علیہ مورخہ25-06-2000 کوبہ مطابق شریعت محمدی ہوئی تھی اور مدعیہ ہمراہ مدعا علیہ کے ہاں آباد ہو کر حقوق زوجیت ادا کرنے لگی دوران ابادی فریکین کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جو حیات ہے اور من مدعیہ کے زیر کفالت و زیر پرورش ہے
2: یہ کہ مد علیہ کا رویہ ہمراہ مدعیہ شروع دن سے ہی ظالمانہ تھا مار پیٹ کرتا تھا اور اکثر مارپیٹ کر گھر سے نکال دیتا تھا
3: ای اے کے مدا علی کا رویہ شروع دن سے ہی ٹھیک نہ ہونے کے ساتھ خرچہ نان و نفقہ بھی نہ دیتا تھا جس کو وہ قانون و شرعا ادا کرنے کا پابند ہے قبل اذیں بھی من مدعیہ نے دعوی خرچہ نان و نفقہ دائر کیا تھا جو بعدالت جناب فیملی جج کی عدالت سے تین ہزار روپے ڈگری ہوا تھا جو بہت کم ہے اور اس مہنگائی کے دور میں ہرگز گزارا نہ ہوتا ہے کیونکہ اب نہ بالغہ بڑی ہو گئی ہے اور تعلیم بھی حاصل کر رہی ہے گزارا نہ ہو رہا ہے لہذا بڑھائے جانے خرچہ نان و نفقہ مدعیہ نمبر 2
4: یہ کے مد علیہ زمیدارہ کرتا ہے جس سے اس کا ماہانہ امدن 80/90 ہزار روپے ہے اور نابالغہ کو مطلوبہ خرچہ باآسانی ادا کر سکتا ہے
5: یہ کے مد علیہ کو بارہا دفعہ کہا وہ کہلوایا گیا ہے کہ وہ نابالغ کو خرچہ نان و نفقہ ادا کرے مگر مدع علیہ بلاوجہ انکاری ہے لہذا ضرورت دعوی ہذا لاحق ہوتی ہے اور مدا علیہ جوابدہ دعوی ہذا کا ہے
6: یہ کہ بنائے دعوی از قطعی اخری انکار سات یوم قبل سے پیدا ہو کر مسلسل رواں ہے
7: یہ کہ رہائش فریقین اور بنائے دعوی اندر حدود عدالت ہے لہذا عدالت کو اختیار سماعت حاصل ہے
8: یہ کہ مالیت دعوی بغرض کورٹ فیس اور اختیار سماعت مبلغ 15 روپے چسپاں کر دی گئی ہے
Enhancement Of Maintenance

Comments
Post a Comment