اگر خاتون طلاق مانگے تو شوہر کو کیا جواب دینا چاہیے ؟ شوہر کو وکیل کے ذریعے اس طریقے سے اگر عورت خلا مانگے تو اس کو جواب دینا چاہیے
اگر خاتون طلاق مانگے تو شوہر کو کیا جواب دینا چاہیے ؟
شوہر کو وکیل کے ذریعے اس طریقے سے اگر عورت خلا مانگے تو اس کو جواب دینا چاہیے
بعدالت جناب فیملی جج صاحب ضلع۔۔۔
یاسمین۔ بن۔ ام مشتاق
دعوی تنسیخ نکاح
جواب دعوی
جناب عالی! مد علیہ حسب ذیل عرض گزار ہے
:عذرات ابتدائی
1: یہ کہ دعوی ہذا قانوناً قابل پذیرائی و پیشرفت نہ ہے
2: یہ کہ مدعیہ نے with clean hand عدالت سے رجوع نہ کیا ہے اس لیے کسی قسم کی داد رسی کی مستحق نہ ہے
3: مدعیہ اپنے قول و فعل میں مانع امر دعوی ہذا ہے
4: مدعیہ کو کوئی بنائے دعوی و منسب دعوی کا حق حاصل نہ ہے
جواب واقعاتی:
یہ کہ مدعیہ نمبر 1 کی رہائش شادی کی تاریخ اور شادی ہونے تک درست ہے باقی فقرہ غلط ہے مدعیہ کے والدین مفلسی و غریبی کی زندگی گزار رہے تھے وہ مدعیہ کو کوئی قیمتی سامان دے کر رخصت نہ کیا بلکہ شادی کے چھوٹے موٹے اخراجات بھی مدعا علیہ نے خود ادا کیے ہیں
2: یہ کہ فقرہ نمبر 2 ابادی و حقوق زوجیت تک درست ہے باقی فقرہ غلط ہے مدعا علیہ نے مدعیہ کی ہر جائز ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھ کر پورا کیا مدعا علیہ نے ہر موڑ پر مدعیہ کا ساتھ دیا اور اج بھی مدعا علیہ مدعیہ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔
3: یہ کے فقرہ نمبر 3 مکمل طور پر غلط ہے مدعا علیہ نے اج تک نہ کوئی طلاق دی اور نہ ہی مار پیٹ کر گھر سے نکالا ہے بلکہ مدعیہ نے خود اپنے والدین سے ملنے کی ضد کی اور پھر والدین کے بہکاوے میں اگئی واپسی نا جانے کا ارادہ کر لیا اور بضد ہو گئی اس فقرے میں الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں ہے
4: یہ کہ فقرہ نمبر 4 الزام تراشی کے علاوہ اور کچھ نہ ہے عرصہ تقریبا دو سال مدعیہ و مدعاعلیہ خوشی خوشی زندگی گزار رہے تھے کہ اچانک مدعیہ اپنے والدین کے گھر ملنے گئی اور وہیں بیٹھ گئی اور بضد ہو گئی اور واپسی انے سے صاف انکار کر دیا وجہ پوچھنے پر کچھ نہ بتایا معززین علاقہ کو بھی بھیجا مگر پھر بھی مدعیہ بضد رہی۔
5: یہ کہ فکرا نمبر پانچ غلط ہے مدعا علیہ کو نہ تو کہا اور نہ کہلوایا گیا بلکہ وہ اپنے والدین کے گھر بضد ہو کر بیٹھ گئی اور واپس انے سے انکاری ہو گئی جبکہ مدعا علیہ مدعیہ سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کے ساتھ گھر بسانا چاہتا ہے اس کی ہر جائز ضرورت پوری کرے گا جس کے لیے وہ اسٹام پیپر پر بھی لکھ کر دینے کے لیے راضی ہے۔
6: یہ کے مدعیہ کو کوئی بنائے دعوی حاصل نہ ہے
7: یہ کہ فقرہ نمبر سات قانونی ہے
8: فقرہ نمبر اٹھ قانونی ہے
:استدعا
استدعا ہے کہ دعوی مدعا علیہ بحق مدعا علیہ
برخلاف مدعیہ بمطابق عنوان و متن خارج فرمایا جاوے
قرین انصاف ہوگا۔

Comments
Post a Comment