Skip to main content

کیا بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟ بیوی اپنے شوہر سے کس قانون کے تحت علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟ فیملی کیس میں دعوی تنسیخ کے ساتھ ساتھ عورت/خاتون خرچے کا کیس بھی کر سکتی ہے

کیا بیوی اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟ 
بیوی اپنے شوہر سے کس قانون کے تحت علیحدگی اختیار کر سکتی ہے ؟


Dissolution Of Muslim Marriages Act 1939


Dissolution of Muslim Marriages Act, 1939
یہ کیس فیملی کورٹ میں دائر کیا جاتا ہے اور ڈیزولیوشن اف مسلم میرج ایکٹ 1939 کے سیکشن 2 میں اس کو وضاحت دی گئی ہے جس کے تحت خلع کا کیس دائر کیا جاتا ہے


عدالت جناب فیملی جج ضلع ۔۔۔
رضیہ بی بی دختر اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
                            بنام                      
یاسین ولد راشد سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔

دعوی تنسیخ نکاح                     


                                         جناب عالی! مدعیہ حسب ذیل عرض گزار ہے         

1: یہ کہ مدعیہ مذکورہ بالا پتہ کی رہائشی و سکونتی ہے مدعیہ کی شادی مورخہ 14 12 2020 بمطابق شریعت محمدی ہمراہ مدعا علیہ سر انجام پائی اور بوقت رخصتی مدعیہ قیمتی سامان جہیز لے کر اباد ہو گئی جس کا الگ سے دعوی کرنے کا حق مدعیہ محفوظ رکھتی ہے

2: یہ کہ شادی کے بعد مدعیہ ہمراہ مدعا علیہ کے گھر اباد ہو گئی اور حقوق زوجیت ادا کرنے لگی شروع شروع میں مدعا علیہ کا رویہ ہمراہ مدعیہ اچھا رہا لیکن بعد میں مدعا علیہ کے رویے میں تبدیلی انے لگی اور بات بات پر مدعا علیہ من مدعیہ لڑتا جھگڑتا اور تشدد کرتا تھا

3: یہ کہ عرصہ دو سال قبل مدعا علیہ نے من مدعیہ کو مار پیٹ کر زبانی تین طلاقیں دے کر تین پار چات پوشیدنی گھر سے نکال دیا چونکہ مدعا علیہ اچھے کردار کا مالک نہ ہے اور راتوں کو گھر لیٹ اتا ہے مدعیہ کے پوچھنے پر من مدعی پر تشدد کرتا اور خرچہ نان و نفقہ سے بھی من مدعیہ کو تنگ رکھتا تھا دیگر عورتوں سے ناجائز تعلقات استوار کیے ہوئے تھے من مدعیہ کے منع کرنے پر مدعا علیہ نے من مدعیہ کو مار پیٹ کر تین طلاقیں دے کر گھر سے نکال دیا

4: یہ کہ عرصہ دو سال قبل مدعا علیہ نے من مدعیہ کو تین طلاقیں دے کر مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور عدت کا خرچہ بھی نہ دیا جس کا وہ قانوناوشرعا دینے کا پابند تھا

5: یہ کہ مدعا علیہ کو بارہا کہا گیا کہ وہ تحریری طلاق دے کر مدعیہ کو اپنی زوجیت سے ازاد کر دے مگر وہ بضد ہے معززین علاقہ سے بھی کہلوایا گیا مگر کوئی اثر نہ ہوا اخر کار اس نے ایک ہفتہ قبل صاف انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے ضرورت دعوی ہذا ہوئی ہے اور مدعا علیہ جوابدہ دعوی ہذا ہے

6: یہ کہ بنائے دعوی از اخری انکار ایک ہفتہ سے پیدا ہو کر یوما جاری و ساری ہے

7: یہ کہ رہائش فریقین اندر حدود عدالت فیملی سرگودہا ہے لہذا عدالت حضور کو اختیار سماعت دعوی ہذا حاصل ہے

8: یہ کہ کورٹ فیس مطابق قانون عرض دعوی پر چسپاں کر دی گئی ہے


اندریں حالات ادب سے استدعا ہے کہ دعوی مدعیہ بحق                    
مدعیہ بر خلاف مدعا علیہ بمطابق قانون و متن عرضے                    
   دعوی ڈگری فرمایا جائے قرین انصاف ہوگا               
    
تصدیق 
من مظہرہ خلفا بیان کرتی ہے کہ جملہ مراتب بالا میرے بہترین علم و یقین کے مطابق صحیح و درست ہے

رضیہ بی بی دختر اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔



فیملی کیس میں دعوی تنسیخ کے ساتھ ساتھ عورت/خاتون خرچے کا کیس بھی کر سکتی ہے

عدالت جناب فیملی جج ضلع ۔۔۔
رضیہ بی بی دختر اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
                            بنام 
یاسین ولد راشد سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔

دعوی دلا پانے خرچہ نان و نفقہ مبلغ 20 ہزار ماہوار                       
ائندہ و سابقہ غیر ابادی و 20 فیصد اضافہ                        

1: یہ کہ مدعیہ مذکورہ بالا پتہ کی رہائشی و سکونتی ہے مدعیہ کی شادی مورخہ 14 12 2020 بمطابق شریعت محمدی ہمراہ مدعا علیہ سر انجام پائی اور بوقت رخصتی مدعیہ قیمتی سامان جہیز لے کر اباد ہو گئی

2: یہ کہ شادی کے بعد مدعیہ ہمراہ مدعا علیہ کے گھر اباد ہو گئی اور حقوق زوجیت ادا کرنے لگی مدعیہ کے بطن سے اور مدعا علیہ کے نطفہ سے نابالغ روشان پیدا ہوا شروع شروع میں مدعا علیہ کا رویہ ہمراہ مدعیہ اچھا رہا لیکن بعد میں مدعا علیہ کے رویے میں تبدیلی انے لگی اور بات بات پر مدعا علیہ من مدعیہ لڑتا جھگڑتا اور تشدد کرتا تھا

3: یہ کہ عرصہ دو سال قبل مدعا علیہ نے من مدعیہ کو تین طلاقیں دے کر مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور عدت کا خرچہ بھی نہ دیا جس کا وہ قانوناوشرعا دینے کا پابند تھا

4: یہ کہ مدعا علیہ کی کئی جائیدادیں اور کاروبار ہے یہ کہ مدعا علیہ  باسانی 20 ہزار ماہانہ ادا کر سکتا ہے کیونکہ مدعا علیہ کی امدن ایک لاکھ سے اوپر ہے

5: یہ کہ مدعا علیہ کو بارہا دفعہ کہلوایا گیا کہ وہ نا بالغ کو خرچہ نان و نفقہ ادا کرے مگر وہ بلا وجہ انکاری ہے لہذا ضرورت دعوی ہذا لاحق ہوئی ہے اور مدعا علیہ جواب دہ دعوی ہذا ہے

6: یہ کہ بنائے دعوی از حد اخری انکار سات یوم قبل سے پیدا ہو کر یوما فی یوما جاری و ساری ہے

7: یہ کہ رہائش فریقین اندر حدود عدالت جناب ہے لہذا عدالت جناب کو اختیار سماعت دعوی ہذا حاصل ہے

8: یہ کہ مالیت دعوی بغرض کورٹ فیس مبلغ 15 روپے چسپاں کر دی گئی ہے



اندریں حالات ادب سے استدعا ہے کہ دعوی مدعیہ بحق                    
مدعیہ بر خلاف مدعا علیہ بمطابق قانون و متن عرضے                    
   دعوی ڈگری فرمایا جائے قرین انصاف ہوگا   

رضیہ بی بی دختر اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

  کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ Transfer a case پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے  بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے سیشن کورٹ کے پاس تمام ماتحت عدالتوں کے اختیارات ہوتے ہیں ماتحت عدالتوں میں فیملی عدالتیں دیوانی عدالتیں اور مجسٹریٹ کی عدالتیں ہوتی ہیں جب دیوانی عدالتوں میں کیس ڈگری...

CRIMINAL LAW CASE CITATIONS

 CRIMINAL LAW CASE CITATIONS MLD = MONTHLY LAW DIGEST  PCRLJ = PAKISTAN CRIMINAL LAW JOURNAL  SCMR = SUPREME COURT MONTHLY REVIEW  PLD = PAKISTAN LAW DIGEST  YLR = YEARLY LAW REPORTER CLC = CIVIL LAW CASES  KLR = KARACHI LAW REPORTS NLR = NATIONAL LAW REPORTER PLJ = PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS PLJ (CR.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CRIMINAL CASES PLJ (CIV.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CIVIL CASES SCJ = SUPREME COURT JOURNAL  P CR. = PAKISTAN CRIMINAL CASES ALD = ALMI LAW DIGEST  PLR = PAKISTAN LAW REPORTS PLJ (REV) PLJ REVENUE CASES CITATIONs Image generated using AI tools for informational use only EX. 2025 MLD 1502 2025 = یہ وہ سال ہے جس میں کیس کا فیصلہ ہوا اور رپورٹ  شائع ہوئی MLD = یہ وہ جرنل یا کتاب ہے جس میں فیصلہ شائع ہوا  1502 = اس جرنل یا کتاب کے اندر صفحہ نمبر جہاں سے کیس شروع ہوتا ہے  COURT = HIGH COURT , SUPREME COURT عدالت میں ایسے حوالوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مائی لارڈ اس نوعیت کا فیصلہ MLD 1502 2025 می...

CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT

 CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT 1908 CONDONATION OF DELAY   کنڈونیشن اف ڈیلے اس قانونی جملے کا مطلب ہے کہ کسی قانونی کاروائی میں اپ لیٹ ہو جائیں جیسے مثال کے طور پر اپ نے ایک کام 9 جولائی 2025 کو کرنا تھا مگر کچھ ایسی وجوہات اگئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر اپ وہ کام نہیں کر سکے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد جب اپ کی وہ ٹھوس وجوہات مجبوریاں ختم ہوئی تو اپ نے وہ کام کیا جو اپ کرنا چاہ رہے تھے تو اسی طرح عدالتی کاموں میں بھی ایک کام جو مثال کے طور پر 9 جولائی کو ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب اس کو ہم 1 اگست کو کرتے ہیں تو اس طرح جو درمیان میں Gap اگیا ہے وقت کا اس وقت کو اب عدالت میں explain کرنا ہے کہ ہم اتنے دن کہاں رہے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اسے condonation of delay کہتے ہیں SECTION 5 OF LIMITATION ACT 1908 کنڈونیشن اف ڈیلے کو لیمیٹیشن ایکٹ کا سیکشن 5 ڈیل کرتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ہے یا اپیل کنندہ درخواست عدالت میں جمع کروانے یا اپیل عدالت میں کرنے سے تاخیر کر گیا ہے  EXAMPLE: مطلب مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک مخصوص جگہ 10 دن کے اندر پہنچنا تھا مگ...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU

 SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU 1: ناجائز اسلحہ کی روک تھام کیلئے Punjab Arms Ordinance میں انقلابی ترامیم۔ انتہائی سخت سزائیں اور انتہائی بھاری جرمانہ۔ Punjab Arms (Amendment) Act 2025 (XLI of 2025). غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ دس لاکھ۔ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا چار سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا دس سال کم از کم سزا سات سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ دو ممنوعہ یا پانچ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ 14  سال کم از کم سزا دس سال کم از کم جرمانہ تیس لاکھ 2. زنا بالجبر گینگ ریپ کیس میں پولیس کے بے گناہ کرنے کی بنا پر ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار نہ ہوگا  مطلب اگر زنا بالجبر کسی نے زبردستی کسی خاتون کے ساتھ زنا کی ہے اور اوپر سے وہ گینگ مطل...