ڈرائیونگ کے دوران موت واقعہ ہونے کے بعد اپ کس طرح عدالت سے ضمانت لیں گے ؟
خاندانی دشمنی میں جان کی حفاظت کے لیے کس جج صاحب کے پاس درخواست دی جاتی ہے اور کس طرح حفاظت لی جاتی ہے ؟
...بعدالت جناب فوجداری
محمد اقبال ولد خالد پرویز قوم۔۔۔ساکن۔۔۔۔۔
بنام
سرکار
مقدمہ۔۔۔۔۔۔ بجرائم۔۔۔۔۔۔۔۔
تھانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاریخ۔۔۔۔۔۔
درخواست ضمانت بعد از گرفتاری
جناب عالی
سائل ملزم حسب زیل گزارش کرتا ہے
1: یہ کہ کہانی استغاثہ کے مطابق سائل ملزم پر الزام ہے کہ سائل ملزم نے لاہور روڈ ڈرائیونگ کرتے ہوئےHIACE سے سامنے سے انے والے موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر خادم علی کو مضروب کیا جو کہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جان بحق ہو گیا جو کہ الزام سارا سر غلط بے بنیاد جھوٹا اور من گھڑت ہے
2: یہ کہ سائل ملزم زیل وجوہات کی بنا پر ضمانت کا حقدار ہے
i: یہ کہ سائل ملزم ایک لائسنس یافتہ ڈرائیور ہے
ii: یہ کے ملزم اپنی سائیڈ پر گاڑی چلاتا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار نے موٹر سائیکل خود گاڑی کے ساتھ ٹکر ماری جو کہ بوجہ حادثہ بر مبنی بدنیتی اور مقامی پولیس نے بے گناہ ملوث کر کے پرچہ درج کر دیا ۔
یہ کہ سائل ملزم کے خلاف پرچہ مزید انکوائری کا بنتا ہے
یہ کہ سائل ملزم کے خلاف دفعات ممنوعہ کلاز میں فال نہ کرتی ہیں
یہ کہ سائل ملزم عدم سزا یافتہ و عدم رکارڈ یافتہ ہے
یہ کہ سائل ملزم کا جسم مزید مقامی پولیس کو درکار نہ ہے
یہ کہ سائل ملزم ضمانت پر رہا ہونے کے بعد فرار ہونے کا اندیشہ نہ ہے اور سائل ملزم ضمانت نامہ دینے کو تیار ہے
اندریں حالات استدا ہے کہ سائل ملزم کی ضمانت
بعد از گرفتاری منظور فرمائی جائے جو کہ
قرین انصاف ہوگا
محمد اقبال ولد خالد پرویز قوم۔۔۔ساکن۔۔۔۔۔
خاندانی دشمنی میں جان کی حفاظت کے لیے کس جج صاحب کے پاس درخواست دی جاتی ہے اور کس طرح حفاظت لی جاتی ہے ؟
بعدالت جناب سیشن جج صاحب با اختیارات ایکس افیشیو جسٹس اف پیس ضلع ۔۔۔
مریم بی بی زوجہ ۔۔۔ قوم ۔۔۔ سکنہ تحصیل و ضلع ۔۔۔
بنام
ایس ایچ او تھانہ ۔۔۔
محمد یار
عرفان ﴾ پسران دوست محمد ساکنائے۔
رمضان
درخواست زیر دفعہ 22 اے بی بابت دلائے جانے تحفظ
اذاں مئسول علیہ نمبر 2 تا 4 سائلہ و اٹھوائے جانے
سامان ملکیتی سائلہ ۔
جناب عالی! سائلہ حسب ذیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ سائلہ مذکورہ بالا پتہ کی رہائشی و سکونتی ہے
2: یہ کہ سائلہ مقدمہ نمبر ۔۔۔ مورخہ ۔۔۔ بجرم ۔۔۔ ت پ تھانہ ۔۔۔ میں نامزد ایف ائی ار تھی اور حکم بعدالت جناب ۔۔۔ ایڈیشنل سیشن جج ۔۔۔ سے بری ہو چکی ہے جبکہ سائلہ کا خاوند ۔۔۔ سزائے موت ہو چکا ہے یہ کہ وہ کوا ہذا میں مستغیث پارٹی خاوند سائلہ کے فرسٹ کزن ہیں جس میں مندرجہ بالا الزام علیہان کے نام شامل ہیں جن کی رہائشی مکانات کی دیوار سائلہ کے رہائشی مکانات سے ملحقہ ہے وقوع ھذا کے بعد سائلہ نے مستغیث پارٹی سے خطرہ ہونے کی بابت اپنے دیگر اہل و عیال کے ہمراہ ڈیرا اور رہائش رکھی ہوئی ہے
3: یہ کہ سائلہ کا تمام گھریلو سامان کمروں میں بند پڑا ہے جس میں سے اکثر فریق مخالف نے چوری بھی کر لیا ہے سائلہ کے عزیز و اقارب نے کافی مرتبہ مذکورہ سامان کو اٹھانے کی کوشش کی مگر فریق مخالف دخل انداز ہونے اور لڑائی جھگڑے کے اندیشے کی وجہ سے سامان اٹھائے بغیر واپس پلٹ ائے یہ کہ مذکورہ گھریلو سامان کی سائلہ کو اشد ضرورت ہے کیونکہ سائلہ کے پانچ معصوم بچوں کے سردیوں کے کپڑے وغیرہ بھی ان میں شامل ہے دیگر گھریلو سامان کی بھی اکثر ضرورت رہتی ہے مگر لڑائی جھگڑے اور نقص امن کے علاوہ فریق مخالف کی دھمکیاں دینے کے خطرات کی وجہ سے سائلہ اور سائلہ کے اہل و عیال مذکورہ سامان کو اٹھا نہ سکتے ہیں الزام علیہان وغیرہ سائلہ کو قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں اور سائلہ کا ملکیتی سامان سائلہ کو اٹھانے کی اجازت نہ دے رہے ہیں
یہ کہ ماتحت پولیس ملازمین تھانہ جھال چکیاں کو حکم صادر فرمایا جائے کہ وہ اپنی زیر نگرانی سائل کا سامان مذکورہ مکانات سے اٹھوائیں تاکہ مزید لڑائی جھگڑے نقصان سے بچا جا سکے اور معاشرے میں امن قائم رہے
5: یہ کیس بابت سائلہ نے مئسول علیہ نمبر 1 کو درخواست دی مگر کوئی شنوائی نہ ہو سکی
بحالات بالا استدا ہے کے سائلہ کی درخواست منظور فرمائی جائے
اور سائلہ کا ملکیتی سامان الزام علیہان سے ہمراہ پولیس کی زیر نگرانی میں اٹھوایا جائے
اور سائلہ کو مئسول علیہ نمبر دو تا چار سے تحفظ
دلوایا جائے جو کہ کرین انصاف ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ خاتون کے خاوند نے اپنے چچا یا رشتہ داروں میں سے کسی کو قتل کر دیا جس کے بعد خاتون اور اس کا خاوند دونوں کو جیل ہو گئی خاوند کو وہاں سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا مگر خاتون کو کچھ عرصے کے بعد بری ہو گئی اب چونکہ مسئلہ یہ ا رہا تھا کہ خاتون کا سامان اس کے گھر میں موجود تھا اور اس کا گھر اس گھر کے ساتھ تھا جس کے ساتھ ان کی خاندانی دشمنی چلی ارہی تھی اب جب خاتون سامان اٹھانے جاتی تو اسے قتل کی دھمکیاں دیتے جس کی وجہ سے سیشن کورٹ میں یہ درخواست دائر کی گئی کہ خاتون کو سامان اٹھانے کی اجازت دلوائی جائے بذریعہ پولیس۔
Comments
Post a Comment