اگر لڑکی اپنی ازاد مرضی سے شادی کر لے تو اس کے ساتھ کیا ہوگا ؟ اگر کچھ لوگ کسی عورت کے گھر میں داخل ہو کر اسے زود و کوب کرے تو ان کے خلاف کیا کاروائی ہو سکتی ہے ؟ عدالت میں عدم حاضری کی وجہ سے ملزم کو اشتہاری کیوں کر دیا جاتا ہے ؟
اگر لڑکی اپنی ازاد مرضی سے شادی کر لے تو اس کے ساتھ کیا ہوگا ؟
اگر کچھ لوگ کسی عورت کے گھر میں داخل ہو کر اسے زود و کوب کرے تو ان کے خلاف کیا کاروائی ہو سکتی ہے ؟
عدالت میں عدم حاضری کی وجہ سے ملزم کو اشتہاری کیوں کر دیا جاتا ہے ؟
اس کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ ایک خاتون نے اپنی ازاد مرضی سے ایک شخص سے شادی کر لی اور شادی عدالتی شادی ہوئی جسے کورٹ میرج کہتے ہیں جب اس کے گھر والوں کو اس بات کا اندازہ ہوا تو وہ لڑکی کو مارنے کے لیے اس کے گھر پہنچ گئے اور وہاں خوب مار پیٹ اور قتل کی دھمکیاں دینے کے بعد فرار ہو گئے جس کو موقع پر کچھ گواہان نے دیکھ لیا اور منت سماجت کر کے لڑکی کی جان بخشی کروائی اس لیے لڑکی تھانے میں رپورٹ کروانے گئی مگر پولیس اہلکاروں نے اس کی کوئی بات نہ سنی جس پر اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انصاف کے لیے اپیل کی۔
بعدالت فوجداری تحصیل و ضلع ۔۔۔
زینب زوجہ شاکر سکنا گلی نمبر۔۔۔ مکان نمبر۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
بنام
غلام نبی ولد محمد حیات
احمد ولد غلام حسین سکنہ چک نمبر۔۔۔ تحصیل و ضلع۔۔۔۔
استغاثہ زیر دفعہ 452،354 ت پ تھانہ۔۔۔ تحصیل و ضلع۔۔۔
جناب عالی! مستغیثہ حسب زیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ مستغیصہ عاقلہ و بالغہ ہے اور اپنے نفع نقصان کو بخوبی جانتی ہے
2: یہ کہ مستغیثہ اپنی ازاد مرضی سے بلا جبر و اکراہ غیر بحوش و خواص خمسہ وثبات عقل مورخہ 20-11-2020 کو علی سے نکاح کر لیا اور اسی دن سے اپنے خاوند علی ولد ۔۔ سکنہ ۔۔۔۔ تحصیل و ضلع کے ساتھ پتہ مذکورہ بالا پر رہ رہی ہے اور راضی خوشی زندگی گزار رہی ہے
3: یہ کہ کل مورخہ 24-11-2020 کو بوقت شام چار بجے اپنے گھر موجود تھی اور خاوند سودا سلف لینے بازار گیا ہوا تھا کہ اچانک الزام علیہان گھر کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کر کے گھر میں داخل ہو گئے اور مجھے مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور قتل کرنے کی کوشش کی اور کہا تجھے ازاد مرضی سے شادی کرنے کا مزہ چکھاتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دینے لگ گئے کہ تجھے ازاد مرضی سے شادی کرنے پر قتل کر دیں گے
4: یہ کہ میرے شور واویلا کرنے پر اہل محلہ میں سے چاند اور اسلم پسران رمضان موقع پر اگئے اور منت سماجت کر کے میری جان بخشی کروائی جس پر الزام علیہان قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے
5: یہ کہ وقوہ ہذا کی بابت میں نے تھانہ ۔۔۔ میں رپورٹ درج کروائی مگر ابھی تک میری کوئی شنوائی نہ ہوئی ہے الزام علیہان نے میرے ساتھ سخت زیادتی کی ہے الزام علیہان کو سخت سے سخت سزا دی جائے
بالا استدا ہے کہ ملزمان کو طلب فرما
کر میری داد رسی فرمائی جائے اور اپنی جناب سے سزا دی جائ
زینب زوجہ شاکر سکنا گلی نمبر۔۔۔ مکان نمبر۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔
Comments
Post a Comment