اگر کوئی شخص اپ کے پیسے کھا جائے تو اس سے پیسے کس طرح نکلوائے جائیں? اگر کوئی شخص اپ سے ادھار رقم لے اور واپس نہ کرے تو اس پر یہ کیس کریں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف تھانے میں جھوٹی درخواست دے تو وہ شخص پہلے شخص کے خلاف دعوی دلا پانے کا کیس کر سکتا ہے جس کو وہ ہر جانے کی صورت میں وصول کرے گا۔۔
اگر کوئی شخص اپ کے پیسے کھا جائے تو اس سے پیسے کس طرح نکلوائے جائیں
اگر کوئی شخص اپ سے ادھار رقم لے اور واپس نہ کرے تو اس پر یہ کیس کریں
اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف تھانے میں جھوٹی درخواست دے تو وہ شخص پہلے شخص کے خلاف دعوی دلا پانے کا کیس کر سکتا ہے جس کو وہ ہر جانے کی صورت میں وصول کرے گا۔۔
اس کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس گیا اور جا کر رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا جب دوسرے شخص نے پہلے شخص کو رقم دے دی تو ان کے درمیان زبانی طور پر ایک معاہدہ ہوا کہ فلاں تاریخ کو وہ رقم واپس کر دے گا مگر جب تاریخ کا وقت ایا تو وہ لیت و لال سے کام لینے لگا اور ٹال مٹول کرنے لگا جس پر اس شخص نے کافی دفعہ اپنی رقم واپسی کا مطالبہ کیا پھر اس نے معززین علاقہ سے بھی کہا مگر وہ شخص صاف طور پر انکاری ہو گیا اور رقم دینے سے منکر ہو گیا جس پر دوسرے شخص نے اس پر دعوی د ل ا پانے کا کیس کر دیا اور رقم کی واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کر دیا
بعدالت جناب دیوانی کورٹ۔۔۔ ۔
دوست محمد فیضی ولد اللہ بخش ساکن گلی نمبر 2 تحصیل و ضلع۔۔۔
ب ن ا م
علی ولد سلطان ساکن رحمان پورہ گلی نمبر 1 تحصیل و ضلع۔۔۔
دعوی د ل ا پانے مبلغ 25 ہزار روپے
جناب عالی گزارش حسب ذیل ہیں
1: یہ کہ من مدعی ایک معزز شہری ہے اور نثار ٹاؤن کا رہائشی اور سکونتی ہے
2: یہ کہ مدعا علیہ مورخہ14-06-2018 کو بوقت 4:45 دن کے وقت بمقام نثار ٹاؤن مدعی کے گھر ایا اور کہا کہ مجھے 25 ہزار روپے چاول کی کاشت کرنے کے لیے قرض ادھار دیں چونکہ مدعی اور مدعا علیہ کے اپس میں بہت اچھے تعلقات تھے ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ تھا اس سے پہلے کافی مرتبہ اپس میں لین دین ہوتا رہا ہے اس لیے اعتماد اور بھروسہ کی وجہ سے کوئی تحریر رقم مرکوز نہ کی گئی تھی زبانی طور پر 2 روبرو گواہان گواہ نمبر 1 اور گواہ نمبر 2 کو رقم قرض ادھار مذکور ادا کر دی گئی اور دے دی گئی مدعا علیہ نے وعدہ کیا کہ جو نہی چاول کی فصل اٹھاؤں گا اور فروخت کروں گا اپ کو رقم مرکوزہ واپس کر دوں گا جب مدعا علیہ نے چاول کی فصل فروخت کر دی تو من مدعی نے واپس رقم مرکوزہ کا مطالبہ کیا تو مدعا علیہ نے ٹال مٹول سے کام لیا اور اج تک وعدہ وعید کرتا چلا ارہا ہے اب صاف انکاری ہے جس کا مدعا علیہ کو کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہ ہے
3: یہ کہ ہر چند مدا علیہ کو کہا کہ من مدعی کو قرض ادھار کی گئی رقم مبلغ 25 ہزار روپے واپس کر دے مگر وہ بلا وجہ انکاری ہے اس لیے ضرورت دعوی ہذا لاحق ہوتی ہے
4: یہ کہ بنائے دعوی از اخری انکار قبل ساتھ یوم سے پیدا ہو کر یوما فیوما جاری و ساری ہے
5: یہ کہ رہائش فریقین اندر حدود عدالت دیوانی میں واقعہ ہے اس لیے عدالت حضور کو اختیار سماعت ہذا حاصل ہے
6: یہ کے دعوی مقدمہ پر کورٹ فیس چسپاں کر دی گئی ہے
اندریں حالات ادب سے استدعا ہے کہ دعوی مدعی بحق مدعی بر خلاف مدعا علیہ بمطابق قانون و متن عرضے دعوی ڈگری فرمایا جائے قرین انصاف ہوگا ۔
تصدیق
من مظہر خلفا بیان کرتا ہے کہ جملہ مراتب بالا میرے بہترین علم و یقین کے مطابق صحیح و درست ہے
through council :
اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے خلاف تھانے میں جھوٹی درخواست دے تو وہ شخص پہلے شخص کے خلاف دعوی دلا پانے کا کیس کر سکتا ہے جس کو وہ ہر جانے کی صورت میں وصول کرے گا۔۔
یہ دعوی ایک دیوانی دعوی ہے اور اسے دعوی دلا پانے کہتے ہیں کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ ایک علاقے کے بدمعاش اور چالاک قسم کے لوگوں نے مل کر چند شریف لوگوں کے خلاف تھانے میں درخواست دی پہلے انہیں مارا پیٹا پھر اس کے بعد ان کے خلاف تھانے میں درخواست دی درخواست دینے کے بعد وہ خود تھانے میں پیش نہ ہوتے تھے مگر ملزم الزام علیہ پارٹی کے تھانے میں انہوں نے بہت سے چکر لگوائے جس کی وجہ سے ملزم پارٹی کو کاروباری ذہنی و ہتک عزت کا نقصان ہوا جس کا ہر جانا وہ چاہتے ہیں ملزم پارٹی نے ہرجانہ وصول کرنے کے لیے یہ دعوی دعوی دلاپانے عدالت دیوانی میں دائر کیا جا رہا ہے
بعدالت دیوانی
سلیم ولد شیر قوم۔۔۔ ساکن تحصیل و ضلع
بنام
عباس ولد اسماعیل قوم۔۔۔۔ تحصیل و ضلع
دعوی دلاپانے مبلغ 24،800 روپے
جناب عالی! دعوی حسب زیل عرض گزار ہے
1: یہ کہ مدعی چک نمبر۔۔۔ تحصیل و ضلع کا رہائشی و سکونتی ہے اور اپنے علاقے کا ایک معزز شہری ہے
2: یہ کہ مدعا علیہ ایک شاطر چلاک اور بدمعاش قسم کا ادمی ہے ائے روز مارنا پیٹنا ذلیل و خوار کرنا اس کے معمول میں شامل ہے جس کے لیے قبل ازیں مورخہ ۔۔۔ کو من مدعی کا برادر رمضان بوقت اٹھ بجے صبح مزدوری کے لیے گلی سے گزر کر جا رہا تھا جب وہ روڈ کے قریب پہنچنے والا تھا تو مدعا علیہ نے ایک کس نامعلوم کے ساتھ للکارا کہ اپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اور بلا وجہ مارنا پیٹنا شروع کر دیا اور شدید تشدد کیا جس کا مقدمہ نمبر۔۔۔ مورخہ۔۔۔ بجرم۔۔۔ تھانہ۔۔۔ مدعاعلیہ اور دیگر کے خلاف درج کروایا
3: یہ کیس مقدمے سے بچنے کے لیے اور اپنی بدمعاشی کو قائم رکھنے کے لیے جھوٹی درخواست مورخہ۔۔۔ کو تھانہ اربن ایریا میں من مدعی اور اس کے برادرم پر گزاری گئی جس میں من مدعی اور اس کا برادرم بعد میں تھانہ اربن ایریا میں تفتیش کے لیے پیش ہوئے اور اس کے بعد ایس ایچ او تھانہ اربن ایریا کے پاس پیش ہوتے رہے اور اپنی بے گناہی مکمل طور پر ثابت کی کیونکہ درخواست مذکورہ جھوٹی اور بے بنیاد تھی اس لیے داخل دفتر فرما دی گئی
4: یہ کہ من مدعی اور برادرم نے مد علیہ سے کہا کہ اپ کی اس بے بنیاد جھوٹی درخواست کی وجہ سے من مدعی اور برادر رم کا مالی کاروباری نقصان ہوا ہے اور ذہنی کوفت و پریشانی ہوئی ہے لہذا اپ من مدعی کو مالی کاروباری نقصان ذہنی کوفت واحد کے عزت کے عوض مبلغ 24800 روپے جس کی تفصیل درج ذیل ہے ادا کریں
اخراجات پیروی مقدمہ 12,000 روپے
مالی و کاروباری نقصان 8,000 روپے
ذہنی کوفت۔ 4،800 روپے
کل مبلغ۔ 24,800 روپے
5: یہ کہ من مدعی نے اپنے طور پر بذریعہ معززین برادری بھی مدعا علیہ کو کہا کہ اپ نے میرے اور برادرم کے خلاف جھوٹی و بے بنیاد درخواست تھانہ میں گزاری تھی جس میں من مدعی برادرم کو متعدد بار تھانے میں پیش ہونا پڑا اپنی بے گناہ ثابت کرنی پڑی کیونکہ درخواست مذکورہ جھوٹی تھی اس لیے خارج ہو گئی اپ نے مجھے میرا برادرم پر جو کُل خرچہ ایا ہے 24800 روپے بمطابق تفصیل بطور ہرجانہ ادا کرنا ہے لیکن مدعا علیہ انکاری ہو گیا اور اب تک نہ ادا کیے ہیں
6: یہ کہ ہر چند مدعا علیہ کو کہا گیا کہ وہ من مدعی کو مالی کاروباری و ذہینی کوفت و ہتک عزت کی مد میں مبلغ 24,800 روپے ادا کرے لیکن وہ بلا وجہ انکاری ہے اس لیے ضرورت نالش ہذا دعوی لاحق ہوئی ہے
7: یہ کہ بنائے دعوی از حد اخری انکار سات یوم قبل سے پیدا ہو کر یوماً فیوماً جاری و ساری ہے
8: یہ کہ رہائش فریقین اندر حدود عدالت دیوانی ۔۔۔ ہے لہذا عدالت جناب کو اختیار سماعت حاصل ہے
9: یہ کہ مالیت دعوی بغرض کورٹ فیس وا اختیار سماعت دعوی ہذا پر چسپاں کر دی گئی ہے
اندریں حالات ادب سے استدعا ہے کہ دعوی مدعی بحق مدعی بر خلاف مدعا علیہ بمطابق قانون و متن عرض دعوی ڈگری فرمایا جائے قرین انصاف ہوگا ۔

Comments
Post a Comment