Skip to main content

چوری (Theft) کیا ہوتی ہے ؟ بھتہ خوری (Extortion) کیا ہوتا ہے ؟ راہ زنی (Robbery) کیا ہوتی ہے (Dacoity) کیا ہوتی ہے ؟

         Theft, Extortion, Robbery, Dacoity




Theft (چوری(382 _378 

 (378) تعریف 

379 سزا 

380 گھر یا عمارت کے اندر چوری

381 ملازم کی چوری 

382 چوری کے وقت جان سے مارنا یا چوٹ پہنچانے کی نیت


section 378 :

جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی چیز بغیر اجازت کے بغیر اس کی مرضی کے اپنے قبضے میں لے لے اور اس نیت سے لے کہ اس کا ارادہ کبھی اس چیز کو واپس کرنے کا نہیں تھا اس عمل کو تھیفٹ یعنی چوری کہتے ہیں

مثال کے طور پر 

اگر A نے B کی اجازت کے بغیر اس کی جیب سے کچھ پیسے نکال لیۓ تو یہ چوری کے زمرے میں اتا ہے اور اس کی نیت دوبارہ اسے وہ رقم واپس کرنے کی نہ ہو اسے چوری کہتے ہیں



section 379: 

اگر کوئی شخص کسی کی منقولہ جائیداد بغیر اجازت کے اپنے قبضے میں لے لے اور اس کی نیت اسے واپس کرنے کی نہ ہو تو یہ جرم کے زمرے میں اتا ہے اور اس کی سزا تین سال ہے اور جرمانہ ہے یا دونوں ہو سکتے ہیں اور یہ ناقابل ضمانت جرم ہے

یہ ہر اس چیز پر لاگو ہوتا ہے جو منقولہ ہے جیسے موٹر سائیکل بیگ جیولری موبائل وغیرہ وغیرہ

مثال کے طور پر 

اگر A نے B کی اجازت کے بغیر اس کی جیب سے کچھ پیسے نکال لیۓ تو یہ چوری کے زمرے میں اتا ہے اور اس کی نیت دوبارہ اسے وہ رقم واپس کرنے کی نہ ہو اسے چوری کہتے ہیں



Section 380:

سیکشن 380 پی پی سی اس بات کو ڈیل کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر کمرے دکان یا چار دیواری کے اندر چوری کرتا ہے تو اس پر سیکشن 380 لاگو ہوتا ہے 

عام سیکشن 379 کسی بھی جگہ چوری پر لاگو ہوتا ہے مگر سیکشن 380 چار دیواری کی چوری پر لاگو ہوتا ہے 

سیکشن 380 کے زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے یا دونوں اکٹھے ہو سکتے ہیں

مثال کے طور پر 

اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں داخل ہوتا ہے اور اس کی الماری سے سونا چوری کرتا ہے یا کوئی شخص کسی کی دکان میں داخل ہوتا ہے اور اس کے دراز سے پیسے چوری کرتا ہے تو اس پر سیکشن 380 کا اطلاق ہوگا



Section 381:

سیکشن 381 پی پی سی اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جب کوئی ملازم یا ایمپلائی اپنے مالک کی ملکیت میں سے کوئی چوری کرتا ہے بد نیتی سے کوئی چیز اٹھاتا ہے جس کا ارادہ اسے واپس کرنے کا نہ ہو جو چوری کے زمرے میں اتی ہو اس پر سیکشن 381 کا اطلاق ہوگا 

عموما اس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہوتی ہے یا جرمانہ ہوتا ہے یا دونوں ہو سکتے ہیں جرمانہ جج کی مرضی کے مطابق ہوتا ہے 

مثال کے طور پر 

جب ایک ایمپلائی اپنے باس کی غیر موجودگی میں اس کی کوئی چیز اٹھا لیتا ہے اس کا موبائل اٹھا لیتا ہے اور جس کا ارادہ اسے واپس کرنے کا نہ ہو 

جب ایک ملازم اپنے مالک کی غیر موجودگی میں اس کے دراز سے کچھ پیسے اٹھا لیتا ہے اور جس کا ارادہ اسے واپس کرنے کا نہ ہو جس میں بد نیتی ظاہر ہو تو اس پر سیکشن 381 کا اطلاق ہوگا۔



Section 382:

سیکشن 382 پی پی سی کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص چوری کے دوران کسی شخص کو اس نیت سے ڈرائے دھمکائے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرے یا اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دے تاکہ اس کی چوری اسانی کے ساتھ کامیاب ہو سکے تو اس صورت میں سیکشن 382 کا اطلاق ہوگا 

سیکشن 382 کی سزا زیادہ سے زیادہ 14 سال ہے یا جرمانہ ہوتا ہے بعض صورتوں میں دونوں بھی ہو سکتے ہیں 

مثال کے طور پر 

جب ایک شخص کسی دوسرے شخص کے گھر چوری کے ارادے سے جاتا ہے رات کے اندھیرے میں اگر کوئی گھر کا افراد جاگ جائے تو دوسرا شخص چاقو یا پستول نکال کر اس کو ڈرائے دھمکائے یا جان سے مار دینے کی دھمکی دے تاکہ اس کی چوری کامیاب ہو سکے وہ اس گھر سے نقدی سونا یا موبائل اسانی سے ڈرا دھمکا کے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ سیکشن 382 کے زمرے میں اتا ہے جس سے اس کی چوری کامیاب ہو جاتی ہے



Extortion:

ایکسٹارشن کا قانونی اور سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ کسی کو ڈرا دھمکا کر کوئی فائدہ لینا کسی کی جائیداد ہڑپ کر جانا جائیداد میں منقولہ یا غیر منقولہ دونوں اتی ہیں  خوف دلا کر یا نقصان پہنچانے کی نیت سے بھی کوئی فائدہ لینا یا جائیداد ہڑپ کر جانا بھی ایکسٹارشن میں اتا ہے



پاکستان پینل کوڈ میں ایکسٹارشن کو پانچ سیکشن ڈیل کرتے ہیں 

سیکشن 383 

سیکشن 384 

سیکشن 385 

سیکشن 386 

سیکشن 387



Section 383:

اس سیکشن میں کسی کو نقصان یا نقصان کی دھمکی دے کر اس سے کوئی چیز رقم جائیداد یا کوئی فائدہ حاصل کرنا 

مثال کے طور پر 

ایک شخص دوسرے شخص کو کہتا ہے اگر تم نے مجھے رقم نہ دی تو میں تمہاری ویڈیو لیک کر دوں گا



Section 384:

سیکشن 384 میں سزا کا تعین کیا گیا ہے جس میں تین سال تک قید جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں جرمانے کی مقدار معین نہیں اس میں عدالت خود فیصلہ کرتی ہے کہ کتنا جرمانہ کرنا ہے

مقدار نقصان اور کیس کی نوعیت دیکھ کر طے کیا جاتا ہے کہ کس طرح جرمانہ کرنا ہے



Section 385:

اگر ایکسٹارشن کامیاب نہ ہو مطلب صرف دھمکی دی جائے عمل نہ کیا جائے تو اس کو دو سال کی قید جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں



Section 386:

سیکشن 386 اس بات کو ڈیل کرتا ہے کہ سامنے والے کو قتل یا شدید نقصان کا خوف دلایا جائے اور اس سے کوئی کام لیا جائے اس میں 10 سال تک قید اور جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں نقصان کا تعین کرتے ہوئے جرمانے کے مقدار کا تعین کیا جائے گا



Section 387:

سیکشن 387 میں اگر ایکسٹورشن کی کوشش میں کسی کو موت کی دھمکی دی جائے کہ میں تمہیں قتل کر دوں گا اس میں سزا سات سال کی قید اور جرمانہ ہو سکتا ہے



Robbery:

روبری وہ چوری ہے جس میں چوری کے بعد یا چوری کے دوران دھمکی خوف یا جان سے مار دینے کی دھمکی کا خوف یا احساس دلایا جائے اسے روبری کہتے ہیں


چوری + دھمکی = روبری


روبری کی تعریف سیکشن پی پی سی کے سیکشن 390 میں کی گئی ہے اور اس کی سزا پی پی سی کے سیکشن 392 میں کی گئی ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ روبری کیسے ہوتی ہے اور اس کی سزا کا تیار عدالت کس طرح کرتی ہے اسے سیکشن 392 میں بیان کیا گیا ہے

سیکشن 390 بتاتا ہے کہ روبری اصل میں چوری ہے ایسی چوری جس میں زود و کوب کیا جائے دھمکی دی جائے جان سے مار دینے کی دھمکی دی جائے تشدد کیا جائے یا روبری کے دوران کوئی ڈیتھ ہو جائے روبری اصل میں چوری کا ہی ایک روپ ہے مگر اس میں تشدد جان سے مار دینے کی دھمکی قتل کی دھمکی یا ڈیتھ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تو اس صورت میں یہ چوری روبری کی شکل اختیار کر جاتی ہے 

مثال کے طور پر 

کسی شخص نے دوسرے شخص سے رقم حاصل کرنے کے لیے اسے تشدد کیا اسے دھمکی دی جان سے مار دینے کی دھمکی دی یا اسے جان سے مار دیا تو ایسی صورت میں یہ چوری روبری کی شکل اختیار کر گئی مگر ہاں اگر تشدد دھمکی کا ذکر نہ ہو تو یہ روبری نہیں رہتی یہ سمپل چوری بن جاتی ہے کیونکہ روبری کو ثابت کرنے کے لیے تشدد یا ڈیتھ کا ہو جانا ضروری ہے



Section 392:

پی پی سی کا سیکشن 392 ہمیں بتاتا ہے کہ روبری کی صورت میں سزا کا تعین عدالت 10 سال تک کرتی ہے اگر ہلکی صورت میں روبری ہوئی ہو تو کم سے کم سزا تین سال تک ہو سکتی ہے وہ زیادہ زیادہ 10 سال تک ہو سکتی ہے یہ سزا روبری کی صورت میں ہے اور گواہوں کے بیانات اور گواہی پر منحصر ہوتا ہے کہ روبری کس قسم کی کی گئی ہے اور اگر ڈیتھ ہو جائے تو ساتھ اور بھی سیکشن لگ جاتے ہیں



Section 397:

اگر کوئی شخص روبری یا ڈکیتی کے دوران شدید قسم کی فورس استعمال کرے جس سے اگلے شخص کو شدید نقصان ہو اور جان سے جانے کا خطرہ ہو یا جان لیوا اسلحہ استعمال کیا گیا ہو یا ہائی وے پر روبری کی گئی ہو تو ایسی صورت میں سخت قسم کی نوعیت کو جانتے ہوئے سخت قسم کی روبری مانی جاتی ہے اس کو سیکشن 397 ڈیل کرتا ہے 

اصل سے مراد چاقو خنجر پستول کلاشنکوف ہر قسم کا اسلحہ اس میں شامل ہے 

اس کی سزا کم سے کم سات سال اور کیس کی یا وقوعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس کی سزا بڑھائی جا سکتی ہے ایسی صورت میں اسے شدید قسم کی روبری یا ڈکیتی مانا جاتا ہے



روبری اور ڈکیتی میں تھوڑا سا فرق ہے

روبری کو سیکشن 390 میں تعریف ہے اور ڈکیتی 395 میں اس کی تعریف ہے 

روبری میں پانچ سے کم افراد 

اور جب کہ ڈکیتی میں پانچ سے اوپر افراد



ڈکیتی ایسی صورت میں ہوتی ہے جس میں کسی کا مال چھینا جائے اور اسے خوف دلایا جائے کہ اسے جان سے مار دیا جائے گا یا پھر اسے دھمکی دی جائے یا اس پر تشدد کیا جائے ایسی صورت میں پانچ سے اوپر افراد مل کر جو کام کرتے ہیں کسی سے مال چھینتے ہیں تو ایسی صورت میں سیکشن 395 پی پی سی اپلائی ہوتا ہے جسے ڈکیتی کہتے ہیں



ڈکیتی تین سیکشن پر مشتمل ہوتی ہے 

سیکشن 395 

سیکشن 396 

سیکشن 397



Section 395:

سیکشن 395 یہ کہتا ہے کہ اگر پانچ سے زیادہ افراد مل کر کسی کا مال چھینے زبردستی مال چھینے اور اس پر تشدد بھی کرے یا اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دے اس کو شدید نقصان ہو یا اسے جان سے مار دے مگر پانچ سے زیادہ افراد ہو تو ایسی صورت میں پی پی سی کا سیکشن 395 متحرک ہو جاتا ہے یعنی اسے ڈکیتی کہتے ہیں 

ڈکیتی کی سزا عمر قید کم سے کم 10 سال اور جرمانہ بھی عدالت ڈکیتی کو مد نظر رکھتے ہوئے کر سکتی ہے کہ مظلوم پارٹی کو کتنا نقصان ہوا ہے یا قید کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی کر سکتی ہے یہ عدالت کا ثواب دیدی اختیارات ہے



Section 396:

پی پی سی کا سیکشن 396 اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اگر کسی کو لوٹ مار کرنے کے لیے پانچ سے زیادہ افراد جائیں اور ڈکیتی کے دوران لوٹ مار کے دوران اگر کوئی شخص قتل ہو جائے چاہے کسی ایک شخص سے قتل ہوا ہو سب کے سب اس میں برابر کے شریک ہوں گے سارے مجرم قرار پائیں گے ساروں کے ذمے اس قتل کی ذمہ داری ہوگی لہذا ہر شخص اس قتل کا ذمہ دار ہوگا سیکشن 396 اس بات کی وضاحت کرتا ہے 

اس سیکشن میں جرمانہ عائد نہیں کیا گیا اس جرم میں سیکشن 396 میں جرمانہ نہیں ہوتا بلکہ یہ پاکستان کے سخت ترین جرموں میں سے ایک جرم ہے لہذا اس میں صرف عمر قید یا سزائے موت کا حکم دیا جاتا ہے



Section 397:

سیکشن 397 ڈکیتی کی وہ ٹرم ہے جس میں لوٹ مار کے بعد کسی پر تشدد کیا جائے پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد مل کر اس کا مال لوٹیں اسے قتل کی دھمکی دیں یا اسے شدید زخمی کر دیں ایسی صورت میں سیکشن 397 اپلائی ہوتا ہے

اس سیکشن میں سزا کا تعین کم سے کم سات سال کیا گیا ہے اور جب کہ عدالت کیس کی نوعیت یا جرم کو دیکھتے ہوئے سزا بڑھا بھی سکتی ہے جرمانہ بھی کر سکتی ہے جبکہ سیکشن 396 میں جرمانے کا ذکر نہیں ہے لیکن سیکشن 397 میں جرمانے کا ذکر کیا گیا ہے کیس کی نوعیت جرم کو کس شدت سے کیا گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے عدالت کی ثواب دیدی ہے کہ وہ کتنا جرمانہ کرتی ہے 

اس سیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روبری اور ڈکیتی دونوں پر اپلائی ہو جاتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

  کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ Transfer a case پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے  بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے سیشن کورٹ کے پاس تمام ماتحت عدالتوں کے اختیارات ہوتے ہیں ماتحت عدالتوں میں فیملی عدالتیں دیوانی عدالتیں اور مجسٹریٹ کی عدالتیں ہوتی ہیں جب دیوانی عدالتوں میں کیس ڈگری...

CRIMINAL LAW CASE CITATIONS

 CRIMINAL LAW CASE CITATIONS MLD = MONTHLY LAW DIGEST  PCRLJ = PAKISTAN CRIMINAL LAW JOURNAL  SCMR = SUPREME COURT MONTHLY REVIEW  PLD = PAKISTAN LAW DIGEST  YLR = YEARLY LAW REPORTER CLC = CIVIL LAW CASES  KLR = KARACHI LAW REPORTS NLR = NATIONAL LAW REPORTER PLJ = PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS PLJ (CR.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CRIMINAL CASES PLJ (CIV.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CIVIL CASES SCJ = SUPREME COURT JOURNAL  P CR. = PAKISTAN CRIMINAL CASES ALD = ALMI LAW DIGEST  PLR = PAKISTAN LAW REPORTS PLJ (REV) PLJ REVENUE CASES CITATIONs Image generated using AI tools for informational use only EX. 2025 MLD 1502 2025 = یہ وہ سال ہے جس میں کیس کا فیصلہ ہوا اور رپورٹ  شائع ہوئی MLD = یہ وہ جرنل یا کتاب ہے جس میں فیصلہ شائع ہوا  1502 = اس جرنل یا کتاب کے اندر صفحہ نمبر جہاں سے کیس شروع ہوتا ہے  COURT = HIGH COURT , SUPREME COURT عدالت میں ایسے حوالوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مائی لارڈ اس نوعیت کا فیصلہ MLD 1502 2025 می...

CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT

 CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT 1908 CONDONATION OF DELAY   کنڈونیشن اف ڈیلے اس قانونی جملے کا مطلب ہے کہ کسی قانونی کاروائی میں اپ لیٹ ہو جائیں جیسے مثال کے طور پر اپ نے ایک کام 9 جولائی 2025 کو کرنا تھا مگر کچھ ایسی وجوہات اگئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر اپ وہ کام نہیں کر سکے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد جب اپ کی وہ ٹھوس وجوہات مجبوریاں ختم ہوئی تو اپ نے وہ کام کیا جو اپ کرنا چاہ رہے تھے تو اسی طرح عدالتی کاموں میں بھی ایک کام جو مثال کے طور پر 9 جولائی کو ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب اس کو ہم 1 اگست کو کرتے ہیں تو اس طرح جو درمیان میں Gap اگیا ہے وقت کا اس وقت کو اب عدالت میں explain کرنا ہے کہ ہم اتنے دن کہاں رہے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اسے condonation of delay کہتے ہیں SECTION 5 OF LIMITATION ACT 1908 کنڈونیشن اف ڈیلے کو لیمیٹیشن ایکٹ کا سیکشن 5 ڈیل کرتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ہے یا اپیل کنندہ درخواست عدالت میں جمع کروانے یا اپیل عدالت میں کرنے سے تاخیر کر گیا ہے  EXAMPLE: مطلب مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک مخصوص جگہ 10 دن کے اندر پہنچنا تھا مگ...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU

 SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU 1: ناجائز اسلحہ کی روک تھام کیلئے Punjab Arms Ordinance میں انقلابی ترامیم۔ انتہائی سخت سزائیں اور انتہائی بھاری جرمانہ۔ Punjab Arms (Amendment) Act 2025 (XLI of 2025). غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ دس لاکھ۔ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا چار سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا دس سال کم از کم سزا سات سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ دو ممنوعہ یا پانچ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ 14  سال کم از کم سزا دس سال کم از کم جرمانہ تیس لاکھ 2. زنا بالجبر گینگ ریپ کیس میں پولیس کے بے گناہ کرنے کی بنا پر ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار نہ ہوگا  مطلب اگر زنا بالجبر کسی نے زبردستی کسی خاتون کے ساتھ زنا کی ہے اور اوپر سے وہ گینگ مطل...