Skip to main content

چند افراد کا گھر میں زبردستی داخل ہونا قتل کی کوشش کرنا اس پر قانون کیا کہتا ہے?

چند افراد کا گھر میں زبردستی داخل ہونا قتل کی کوشش کرنا اور پھر قتل کر دینا اور پھر سب کی ایک ہی نیت ہونا اس پر قانون کیا کہتا ہے ائیے اس کو مزید تفصیل سے پڑھتے ہیں



Section 302 PPC 

Section 324 PPC

Section 452 PPC

Section 34  PPC





فائر آرم کیا ہے ؟

فائر ارم کا مطلب ہے کہ کوئی بھی بارود سے بھری چیز سے فائر کرنا پستول کلاشن کوف یا رائفل شارٹ گن مشین گن وغیرہ سے فائر کرنا اسے فائر ارم کہتے ہیں


گھر میں داخل ہونا 


کوئی شخص دوسرے شخص کی مرضی کے ساتھ اس کے گھر میں داخل ہو تو وہ مہمان کی صورت اختیار کرتا ہے مگر کوئی شخص دوسرے شخص کی مرضی کے خلاف اس کے گھر میں داخل ہو پھر زبردستی داخل ہو تو اس پر قانون سخت حرکت میں اجاتا ہے 

اسلامی شریعت کے مطابق بھی اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے گھر میں انکھ اٹھا کر دیکھے اور گھر کا مالک اتنی زور سے پتھر مارے کہ اس کی انکھ پھوٹ جائے تو بھی مالک پر کچھ گناہ نہیں


بالکل اسی طرح پاکستان کا قانون بھی حرکت میں ا جاتا ہے جیسا کہ پاکستان پینل کوڈ 1860 کے بہت سے سیکشنز گھر میں زبردستی داخل ہونے پر حرکت میں ا جاتے ہیں 


سیکشن 441 


کریمنل ٹریس پاس 


 سیکشن 441 ہمیں وضاحت کرتا ہے کہ کسی کی پراپرٹی میں بغیر اجازت گھس جانا اور وہاں جا کر اسے ڈرانا دھمکانا اور نقصان پہنچانے کی نیت رکھنا جسے دوسرا شخص خوف ذدہ ہو جائے 


دوسری صورت میں کسی شخص کے گھر میں داخل ہونا اس کی اجازت دوسرے لفظوں میں قانونی طور پر کسی کے گھر داخل ہونا اس کی اجازت سے اور پھر وہاں غیر قانونی طریقے سے قابض ہو جانا اور گھر سے نہ نکلنا اور پھر یہ نیت بھی رکھنا کہ اس شخص کو نقصان پہنچایا جائے اسے ڈرایا جائے اسے تکلیف دی جائے یا پھر اس کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی نیت رکھنا یہ سب کریمنل ٹریس پاس میں اتا ہے 


مثال کے طور پر اگر کسی کے گھر پر کوئی دوسرا شخص قبضہ کر لے اور اگر سول کیس کرنا ہو تو بے دخلی کا دیوانی کیس عدالت میں کیا جائے گا مگر اگر فوجداری کاروائی کی جائے تو قبضہ کے حوالے سے سیکشن 441 کی تعریف مگر سزا کے لیے سیکشن 447 کا سہارا لینا پڑتا ہے جس میں سزا اور جرمانہ دونوں کا لکھا گیا ہے سزا تین ماہ یا جرمانہ یا دونوں جرمانہ کے ساتھ ساتھ سزا بھی ہو سکتی ہے


سیکشن 442 ہاؤس ٹریس پاس 


سیکشن 442 میں رات یا دن کا ذکر نہ کیا گیا ہے مطلب کسی بھی وقت اگر کوئی شخص کسی کی پراپرٹی گھر میں زبردستی بغیر اجازت گھس جائے یا داخل ہو جائے تو اس نے سیکشن 442 کا ارتکاب کیا ہے ہاؤس ڈریس پاس کی سزا سیکشن


448 میں بیان کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سزا ایک سال تک اور تین ہزار روپے جرمانہ یا پھر اگر گواہوں کی موجودگی میں ہر بات ثابت ہو جائے یعنی سیکشن 442 کے سب ingredients پورے ہوں تو جج صاحب دونوں سزا اور جرمانہ کر سکتے ہیں


وضاحت 

سیکشن 442 کی مزید وضاحت کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا جسم کا ایک حصہ بھی یعنی ہاتھ پاؤں سر حتی کہ انگلی بھی کسی کی پراپرٹی میں بغیر اجازت داخل کی گئی تو اس پر سیکشن 442 کا ارتکاب کیا جائے گا


سیکشن 443 


کسی پر حملہ کرنے کی نیت سے گھات لگا کر بیٹھنا یا چھپ کر انتظار کرنا اس نیت سے کہ دوسرے کو نقصان پہنچایا جا سکے


سیکشن 443 اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کے گھر بلڈنگ یا ٹینٹ میں بغیر اس کی اجازت کے داخل ہو جائے اور نہ خوشگوار واقعے کو رونما کرنے کے لیے اپنے اپ کو چھپائے اس گھر میں اس بلڈنگ یا اس ٹینٹ میں وہاں گھات لگا کر بیٹھا رہے اور اچانک اس پر حملہ کر دے اس شخص پر حملہ کر دے جسے اختیار ہو کہ وہ اس شخص کو گھر سے بے دخل یا دھکے دے کر بھی بے دخل کر سکتا ہے اسے لرکنگ ہاؤس ٹریس پاس کہتے ہیں


سیکشن 444


کوئی شخص چھپ چھپا کر گھات لگا کر یہ نقصان کی نیت سے کسی کے گھر میں داخل ہو جائے بغیر اجازت یعنی رات کے اندھیرے میں اور صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے یا رات کی تاریکی میں چھپ چھپا کر کسی کے گھر میں داخل ہو جائے تو اسے سیکشن 444 کے تحت لرکنگ ہاؤس ٹریس پاس وہ بھی رات کے اندھیرے میں ڈیل کرتا ہے


سیکشن 445 


اس سیکشن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی رہائش گاہ میں داخل ہو اور اس کے گھر یا گھر کے کسی بھی حصے کو نقصان پہنچائے تو وہ نقب زنی جیسے جرم کا مرتکب ہوگا 

مندر جز مختلف طریقے بتائے گئے ہیں کہ اگر کوئی ان طریقوں سے گھر میں زبردستی داخل ہو اس کے کسی بھی حصے کو نقصان پہنچائے یا جرم کرنے کے بعد اس گھر سے نکلنے کے لیے کوئی طریقہ استعمال کرے تو وہ نقب زنی کے زمرے میں اتا ہے 

1: اگر کوئی شخص کسی بھی گھر میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے کسی ایسے راستے کا انتخاب کرے جو اس نے خود بنایا ہو یا اپنے کسی ایسے ساتھی سے بنوایا ہو جو جرم میں اس کے ساتھ شامل ہو تو وہ اس جرم کا مرتکب ہوگا

2: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کے گھر میں کسی ایسے راستے سے داخل ہو جو نہ تو اس نے خود بنایا ہو اور نہ ہی اس کے ساتھی یا مددگار نے بنایا ہو بلکہ وہ پہلے سے گھر کا راستہ ہو یا اس شخص نے کسی دیوار یا عمارت کے اوپر سے پھلانگ کر گیا ہو 

3: تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ شخص یا اس کا مددگار کسی ایسے راستے کو کھول دیں جو گھر میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ اگر گھر کے مالک مکان کو پتہ چلتا تو وہ یہ راستہ نہ کھولتا 

4: اگر کوئی شخص گھر میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے تالا کھول کر کسی راستے کا استعمال کرے تو اس جرم کا مرتکب ہوگا 

5: اگر کوئی شخص کسی کو ڈرا دھمکا کر اسے خوف زدہ کر کے یا حملہ کر کے اس کے گھر میں داخل ہو یا اس گھر سے نکلے تو وہ اس جرم کا مرتکب ہوگا 

6: اگر کوئی شخص اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر کسی ایسے راستے کو گھر میں داخل ہونے یا نکلنے کے لیے استعمال کرے جو کہ مالک مکان نے اس طرح کے جرائم سے بچنے کے لیے بند کیا ہو تو وہ اس جرم کا ارتکاب کرے گا


سیکشن 446 

یہ سیکشن اس بات کو ڈیل کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص رات کے وقت جیسے کہ غروب افتاب کے بعد یا طلوع افتاب سے پہلے کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہو تو وہ رات میں نقب زنی جیسے جرم کا مرتکب ہوگا



ایک پرانی دشمنی کی بنا پر کسی پراپرٹی میں گھسنا قتل کی کوشش کرنا اور قتل کر دینا اس وقوعہ کو مشکوک کرنے والی باتوں میں سے جو ہتھیار برامد ہوئے انہیں فرینزی کے لیے نہیں بھیجا گیا اور شکایت کو نیندتا کا موقع پر موجود ہونا اور کوئی بھی فائر نہ لگنا یہ بھی ایک مشکوک بات تھی زخمی گواہ اور مادی گواہ کو بطور ثبوت پیش نہ کیا گیا اور فائرنگ کے بعد جو خالی خول بچ جاتے ہیں اور وہ اسلحہ جو استعمال ہوا ہے اسے فرینزک کے لیے بھیجا ہی نہیں گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی وضاحت عدالت میں پیش کی گئی کہ ہم نے خول یا اسلحہ عدالت میں کیوں پیش نہ کی اس حوالے سے بھی کوئی وضاحت موجود نہ تھی



سب سے بڑھ کر مشکوک بات یہ تھی شکایت کنندہ کے مطابق اندھا دھند فائرنگ کی گئی جسے فائر آرم فائرنگ کی گئی مگر پھر بھی شکایت کو نندہ کو ایک بھی فائر نہ لگا ذرا سا زخم بھی نہ ایا کوئی گولی چھو کر بھی نہ گزری یہ بات سب سے زیادہ مشکوک تھی



کیونکہ ہوا میں چھ نامزد ملزمان تھے اور جن پر الزام یہ تھا کہ جنہوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے اور یہی بات پورے کیس کو شک میں ڈال رہی تھی کہ شکایت کو نندہ کو ایک بھی فائر نہ لگنے کی اخر وجہ کیا ہو سکتی ہے شکایت کو نندہ کو کسی بھی قسم کا زخم نہ انا یا فائر ارم کی بنا پر کوئی زخم نہ نہ اس پورے وقوے کو شک میں ڈال رہا تھا



زخمی گواہ اور مادی گواہ میں کیا فرق ہے ؟


زخمی گواہ اس گواہ کو کہتے ہیں جو دوران وقوعہ زخمی ہو جائے اور پھر عدالت میں گواہی دے ایسے شخص کی گواہی عدالت میں زیادہ معتبر اور زیادہ اہم اس لیے سمجھی جاتی ہے کہ وہ موقع کا گواہ ہوتا ہے اور اس پر بھی حملہ ہوا ہوتا ہے جس کا اسے بخوبی علم ہوتا ہے کہ کون کون سے اشخاص اس میں شامل تھے جیسے کہ فائرنگ ہو ساتھ والے دو اشخاص مر جائیں اور ایک شخص زخمی ہو جائے جو یہ بچ جائے تو اس نے جو فائرنگ کرنے والے اشخاص تھے ان کو بخوبی دیکھا ہوا ہوتا ہے اس لیے ان اس کی گواہی زیادہ اہم اور معتبر سمجھی جاتی ہے اسے زخمی گوا کہتے ہیں


مادی گواہ اس گواہ کو کہتے ہیں جو وقوعہ کے وقت وہاں موجود تھا جس پر حملہ تو نہ ہوا مگر وہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا کہ کن اشخاص نے لوگوں پر فائرنگ کی اور کس شخص کی گولی سے دوسرا شخص ہلاک ہو گیا اور کس شخص کی گولی سے کوئی دوسرا شخص زخمی ہو گیا لیکن یہ مادی گواہ وہاں موجود تھا جو یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا مگر یہ زخمی نہ ہوا کیونکہ یہ کسی دور مقام سے یا کسی پتھر کے پیچھے سے یا کسی جگہ سے چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ایسے گواہ کو مادی گواہ کہتے ہیں



اس وقوعہ میں مزید شک اس لیے بھی بڑھتا گیا کیونکہ ایک تو زخمی گواہ کا میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ موجود نہ تھا اور دوسرا زخمی گواہ اور شکایت کنندہ کا بھائی موقع پر موجود تھے انہیں ٹرائل میں پیش نہ کیا گیا اس لیے یہ وقوعہ مزید شک میں الجھتا گیا ۔

دوسرا عدالت نے قانون شہادت کے ارٹیکل 129 g کے تحت یہ بھی قیاس کیا تھا کہ اگر یہ دونوں گواہوں کو استغاثے میں پیش کیا جاتا تو شاید استغاثے کا رخ ہی بدل جاتا یعنی ان کی گواہی کیس کی مخالف سمت میں چلی جاتی



Article 129g:

قانون شہادت کا یہ ارٹیکل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کیس کے دوران کسی بات کا قیاس کر سکتی ہے جیسے کہ اگر ایک فریق کی گواہی اس کے کیس میں دلوائی جاتی تو وہ گواہی مخالف فری کے حق میں جا سکتی تھی اور استغا سے کے خلاف جا سکتی تھی تو عدالت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کا معاملات کو قیاس کر سکتی ہے



مدعی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ کہ ملزم نے پرانی دشمنی کی بنا پر اپنے ساتھ جو ملزمین ہیں انہیں اکسانے کا بھی کام کیا ہے اس کی وجہ یہ پرانی دشمنی تھی

عدالت نے ہر ملزم کو دو سال قید با مشقت اور 10 ہزار روپے جرمانہ کیا اور اگر کوئی یہ جرمانہ ادا نہیں کرتا تو اس کو تین ماہ مزید بآسانی قید میں رکھا جائے گا اور یہ دو سال کی قید سیکشن 148 پی پی سی کے تحت دی گئی ہے 

اور اگر اب ہم بات کریں سیکشن 302 B پی پی سی اور سیکشن 149 کی تو اس کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے



اور سزائے موت بھی اس طرح کی کہنے گردن سے لٹکا کر تب تک رکھا جائے گا جب تک قابل احترام لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے تصدیق نہ ہو جائے اور ہر مجرم سیکشن 544 اے CrPc کے تحت متوفی کے وارثوں کو ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دیے جائیں گے اور ایک لاکھ کی عدم دستیابی کی صورت میں مزید چھ ماہ کی قید اور کاٹیں گے مطلب یہ ہے کہ عدالت نے یہ حکم دیا ہے کہ سزائے موت کے ساتھ ساتھ وہ شخص جو قتل ہوا ہے اس کے وارثوں کو ایک لاکھ روپے جرمانہ یا معاوضے کے طور پر دیا جائے گا اور ان میں سے اگر کوئی شخص ملزموں میں سے اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپیہ دینے سے قاصر ہو تو وہ چھ ماہ کی مزید قید اور کاٹے گا۔

اور اگر اب سیکشن 324 اور سیکشن 149 پی پی سی کی بات کریں تو اس کے تحت 10 سال کی ریگولر سزا سنائی جائے گی اور ب ہزار روپے ہر مجرم ہر ملزم 20 ہزار کے حساب سے متوفی کے وارثوں کو ادا کرے گا اور عدم دستیابی کی صورت میں مزید تین ماہ سخت قسم کی قید کاٹے گا اور اب بات کرتے ہیں سیکشن 452/149 کی کی تو جو ملزموں نے مدعی کے گھر میں داخل ہونے کی گستاخی کی ہے اس کے تحت ملزموں کو تین سال کی ریگولر قید اور ہر ملزم کو 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے جس کی عدم دستیابی کی صورت میں مزید تین ماہ کی قید سنائی جائے گی



اس کے ساتھ ساتھ ملزمان نے خوف و حراس عدم تحفظ اور دہشت گردی جیسے کام کیے ہیں مطلب ایک کھلی جگہ پر فائر کرنا جس سے لوگوں میں خوف و راز پیدا ہو اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو جو دہشت گردی کے زمرے میں ائے سرعام فائرنگ کرنا اس لیے ملزمان کو اینٹی ٹیررزم ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت سزائے موت کی سزا سنائی جاتی ہے اور ایک لاکھ روپے جرمانہ لگایا جاتا ہے جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ کی قید کا مزید اضافہ کر دیا جائے گا اس لیے ملزمان کو یہ قیمت ادا ضرور کرنی پڑے گی مگر نہ وہ چھ ماہ کی سزا اور کاٹیں گے 

اور یہ سب سزائیں ایک ہی وقت میں چلائی جائیں گی

اب جب کہ ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی تھی تو ملزمان نے ایپیلانٹ عدالت کا رخ کیا جس میں انہوں نے سزا اور سزائے موت کو چیلنج کیا ایپلٹ کورٹ میں جانے کا فائدہ یہ ہوا کہ ملزم کے ہم راہی ملزمان میں سے کچھ ملزمان کی کچھ کے سزا ختم ہو گئی اور انہیں بری کر دیا گی

اب ہوا یہ کہ اپیل والی عدالت نے جو ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی اس کو کم کر کے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا اور باقی سزائیں جو ٹرائل کورٹ نے عائد کی تھی جس میں جرمانے والی سزائیں بالکل ویسی کی ویسی ہی اپلائی ہوتی ہیں



اپیل میں ایک اور بات کی گئی  جو سیکشن 302 پی پی سی کا تھا وہ ویسے کا ویسا ہی رہا ہاں مگر اس کی سزا سزائے موت سے کم کر کے عمر قید کر دی گئی اور ساتھ میں ہدایت کی گئی کہ جو ٹرائل کورٹ نے معاوضے کی رقم کا کہا تھا وہ ادا کیا جائے

اس کے بعد جو جرم 452 324 34 کے مطابق جو سزا دی گئی تھی اسے برقرار رکھا گیا 

مگر ہاں البتہ جو اینٹی ٹیررزم ایکٹ سیکشن 7 کے تحت جو سزا دی گئی تھی اسے ختم کر دیا گیا



دوسری طرف مدعی نے بھی اپیل کی کہ ان کی سزاؤں کو برقرار رکھا جائے اور جو ملزم بری ہو گئے تھے ان کو دوبارہ سزا دی جائے اور جن ملزموں کی سزائے کم کر دی گئی ہیں ان کی سزائے بڑھا دی جائے

مگر بڑے افسوس کے ساتھ دوران سزا ایک ملزم جیل میں ہی انتقال کر گیا جس کی وجہ سے اس کے خلاف جو سیکشن لگائے گئے تھے وہ ختم کر دیے گئے

اب عدالت نے بغور جائزہ لیتے ہوئے اور اٹارنی جنرل اور وکیل کی بات سنتے ہوئے اور استغاثہ کے موقف کے بعد جائے وقوعہ سے کلاشنکوف کے 24 خالی خول 12 بور کے دو خالی کارتوس ایک ضائع شدہ گولی اور ایک 12 بور کا ضائع شدہ کارتوس جائے وہ کوا سے برامد ہوا۔



رائفل 222 بور رائفل 12 بور رپیٹر دو کلاشن کوف 30 بور ماؤزر یہ سب ملزمان سے برامد ہوئی وہ ملزمان جنہیں سزا ہوئی اور وہ ملزمان جنہیں بری کر دیا گیا مگر فائر عام تجزیے کے لیے ان کو نہ بھیجا گیا پورے مقدمے میں استغاثہ اس بات پر خاموش رہا جس کی بنا پر کچھ کو باریک کر دیا گیا کچھ ملزمان کو سزا دی گئی اور کچھ ملزمان کی سزا کم کر دی گئی

اس کیس میں مدعی مرحوم کا بیٹا ہے اور تمام متوفی اور زخمییوں کا خونی رشتہ دار ہے جس کے والد صاحب کو قتل کر دیا گیا اور دوسرے رشتہ داروں کو زخمی کر دیا گیا



واقعے کی رات مدعی اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ اپنے کمرے کی چھت پر سو رہا تھا جبکہ اس کے والد صحن میں سو رہے تھے ساتھ میں متوفی اور وہ زخمی رشتہ دار بھی سو رہے تھے

صبح صبح تقریبا 5:30 بجے موٹر سائیکلز کی اواز سنی جو کہ ان کے گھر کے باہر ا کر رکے اور ساتھ ہی انہوں نے دیکھا کہ ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے ان کے والد متوفی اور زخمی رشتہ دار پر فائرنگ کر رہے ہیں

سارے بکوے میں گواہ نمبر 14 نے تمام ملزمان کے ہاتھوں میں جس اسلحے کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ فلاں اسلحہ سے یہ گولی نکلی یا یہ کارتوس نکلا اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گواہ نمبر 14 موقع پر موجود تھا جس نے واضح طور پر چھ ملزمان کے نام لیے اور ان کے ہاتھوں میں الگ الگ اسلحہ کا ذکر کیا اور الگ الگ کار توس اور گولی کا ذکر کیا اور وقوعہ کو بڑے قریب سے دیکھا مگر پھر بھی اس پر کسی قسم کا کوئی زخم یا گولی کا یا کارتوس کا کوئی نشان نہ تھا جس سے یہ وقوعہ مشکوک ہو گیا کیونکہ گواہ نمبر 14 نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے

اور گواہ نمبر 14 کی وہاں موجودگی اور بڑے حساب سے مختلف بندوقوں کی مختلف گولیاں متوفی اور زخمی رشتہ داروں کو لگنا اور بالکل ٹھیک اور صحیح بتانا اور اندھا دھند فائرنگ ہونے کے باوجود بھی اس کو کوئی فائر نہ لگنا شک کی بنیاد بنتا ہے



اگر دوسرا پہلو دیکھا جائے تو پہلے سے دشمنی بھی تھی ان دونوں کے درمیان اس کو دیکھتے ہوئے اس بات کو غور سے خارج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گواہ نمبر 14 چشم دید گواہ بھی ہے جس نے بڑے بغور طریقے سے بندوقوں سے گولیاں نکلتے ہوئے دیکھا اور متوفی اور زخمیوں کو لگتے ہوئے دیکھا

اب جب کہ مدعی کے دو بھائی جو اس کے ساتھ کمرے کی چھت پر سو رہے تھے نے بھی موقع پر وقوعہ ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا ان میں سے ایک زخمی کا کوئی میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ موجود نہ تھا اور دوسرا اس کا بھائی جو موقع کا چشم دید گواہ تھا کو بھی گواہ کے طور پر پیش نہ کیا گیا

اب چونکہ قانون شہادت کا ارٹیکل 129 عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ قیاس کر سکتی ہے کہ ایا اگر یہ دونوں گواہ اگر پیش کیے جاتے تو یہ مدعی مقدمہ کو خراب کر سکتے تھے اور ملزم پارٹی کو فائدہ دے سکتے تھے یہ قیاس ارائی پر بات کی جاتی ہے



اب صورتحال یہ ہے کہ زخمی گواہوں کی گواہی میڈیکو لیگل سے مختلف ہو گئی ہے 

دوسرا 44 رائفل کے کارتوس اور مختلف بندوقوں کی جو گولیاں اور کارتوس برابر ہوئے ان کو فائر ار م کے پاس نہیں بھیجا گیا

مدعی کے بیانات بھی مشکوک ہو گئے ہیں جس سے اب یہ کیس مشکوک ہوتا جا رہا ہے



عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ استغاثہ مقدمہ الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے ملزموں کی بریت بالکل ٹھیک ہے اور انہیں شک سے بڑھ کر انہیں بریت دی گئی ہے اور جو ا اپیل عدالت نے ساتھی ملزموں کو بری کیا تھا وہ بالکل ٹھیک کیا تھا وہ کسی بھی لا قانونیت یا بے قاعدگی بالکل نہیں تھی ساتھی ملزموں کی بریت بنتی تھی

ملزموں کی طرف سے جو اپیل کی گئی تھی اس میں انہیں بری کر دیا گیا ہے 

جبکہ استغاثہ مقدمہ کی طرف سے بھی اپیل کی گئی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ساتھی ملزموں کی جو بریت ہوئی تھی اسے منسوخ کیا جائے اور انہیں دوبارہ سزا دی جائے اور جب کہ جس ملزم کی سزائے موت سے عمر قید کی گئی تھی اسے دوبارہ سزائے موت دی جائے استغاثہ مقدمہ کی یہ اپیل خارج کر دی جبکہ ملزموں کی اپیل منظور کر لی گئی۔



مدعی چشم دید گواہ اور زخمی گواہ ہوں کہ بیانات میں تضاد تھا مطلب ان کے بیانات ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے جس کی بنا پر ملزم کو بری کر دیا گیا اور ان کی گواہی مشکوک ہو گئی استغاثہ ملزم اور بری ہونے والے ملزمان کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا جس کی بنا پر انہیں بری کر دیا گیا 

جبکہ دوسری طرف مدعی استغاثہ نے جو اپیل کی تھی جس میں اس نے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ جو ملزمان بری کر دیے گئے ہیں انہیں دوبارہ سزا دی جائے اور جس ملزم کی یا ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا تھا انہیں دوبارہ سزائے موت دی جائے مدعی اس طرح سے کی یہ اپیل خارج کر دی گئی

2025 SCMR 45

Comments

Popular posts from this blog

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

کیا سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

  کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ Transfer a case پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے  بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے سیشن کورٹ کیا ہے سیشن کورٹ کا ذکر مختلف قانونی کتب میں ایا ہے بعض کتب میں سیشن کورٹ اور بعض میں سیشن ججز کا ذکر ایا ہے بالکل اسی طرحThe code of criminal procedure 189...

CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT

 CONDONATION OF DELAY AND LIMITATION ACT 1908 CONDONATION OF DELAY   کنڈونیشن اف ڈیلے اس قانونی جملے کا مطلب ہے کہ کسی قانونی کاروائی میں اپ لیٹ ہو جائیں جیسے مثال کے طور پر اپ نے ایک کام 9 جولائی 2025 کو کرنا تھا مگر کچھ ایسی وجوہات اگئی ٹھوس وجوہات کی بنا پر اپ وہ کام نہیں کر سکے لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد جب اپ کی وہ ٹھوس وجوہات مجبوریاں ختم ہوئی تو اپ نے وہ کام کیا جو اپ کرنا چاہ رہے تھے تو اسی طرح عدالتی کاموں میں بھی ایک کام جو مثال کے طور پر 9 جولائی کو ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب اس کو ہم 1 اگست کو کرتے ہیں تو اس طرح جو درمیان میں Gap اگیا ہے وقت کا اس وقت کو اب عدالت میں explain کرنا ہے کہ ہم اتنے دن کہاں رہے ٹھوس وجوہات کی بنا پر اسے condonation of delay کہتے ہیں SECTION 5 OF LIMITATION ACT 1908 کنڈونیشن اف ڈیلے کو لیمیٹیشن ایکٹ کا سیکشن 5 ڈیل کرتا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ہے یا اپیل کنندہ درخواست عدالت میں جمع کروانے یا اپیل عدالت میں کرنے سے تاخیر کر گیا ہے  EXAMPLE: مطلب مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک مخصوص جگہ 10 دن کے اندر پہنچنا تھا مگ...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU

 SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND RAPE IN URDU 1: ناجائز اسلحہ کی روک تھام کیلئے Punjab Arms Ordinance میں انقلابی ترامیم۔ انتہائی سخت سزائیں اور انتہائی بھاری جرمانہ۔ Punjab Arms (Amendment) Act 2025 (XLI of 2025). غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ دس لاکھ۔ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا تین سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال کم از کم سزا چار سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ ممنوعہ بور کا اسلحہ لیکر چلنے یا نمائش پر زیادہ سے زیادہ سزا دس سال کم از کم سزا سات سال کم از کم جرمانہ بیس لاکھ۔ دو ممنوعہ یا پانچ غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے پر زیادہ سے زیادہ سزا پانچ 14  سال کم از کم سزا دس سال کم از کم جرمانہ تیس لاکھ 2. زنا بالجبر گینگ ریپ کیس میں پولیس کے بے گناہ کرنے کی بنا پر ملزم ضمانت قبل از گرفتاری کا حقدار نہ ہوگا  مطلب اگر زنا بالجبر کسی نے زبردستی کسی خاتون کے ساتھ زنا کی ہے اور اوپر سے وہ گینگ مطل...

CRIMINAL LAW CASE CITATIONS

 CRIMINAL LAW CASE CITATIONS MLD = MONTHLY LAW DIGEST  PCRLJ = PAKISTAN CRIMINAL LAW JOURNAL  SCMR = SUPREME COURT MONTHLY REVIEW  PLD = PAKISTAN LAW DIGEST  YLR = YEARLY LAW REPORTER CLC = CIVIL LAW CASES  KLR = KARACHI LAW REPORTS NLR = NATIONAL LAW REPORTER PLJ = PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS PLJ (CR.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CRIMINAL CASES PLJ (CIV.C) =  PAKISTAN LEGAL JUDGMENTS - CIVIL CASES SCJ = SUPREME COURT JOURNAL  P CR. = PAKISTAN CRIMINAL CASES ALD = ALMI LAW DIGEST  PLR = PAKISTAN LAW REPORTS PLJ (REV) PLJ REVENUE CASES CITATIONs Image generated using AI tools for informational use only EX. 2025 MLD 1502 2025 = یہ وہ سال ہے جس میں کیس کا فیصلہ ہوا اور رپورٹ  شائع ہوئی MLD = یہ وہ جرنل یا کتاب ہے جس میں فیصلہ شائع ہوا  1502 = اس جرنل یا کتاب کے اندر صفحہ نمبر جہاں سے کیس شروع ہوتا ہے  COURT = HIGH COURT , SUPREME COURT عدالت میں ایسے حوالوں کا استعمال کیسے ہوتا ہے؟ مائی لارڈ اس نوعیت کا فیصلہ MLD 1502 2025 می...