Skip to main content

گاڑیوں کے(کالےشیشے) لگوانے کا قانونی طریقہ


ٹنٹڈ گلاسز کیا ہوتے ہیں ؟
ٹنٹڈ گلاسز خاص قسم کے کالے شیشے ہوتے ہیں ان گلاسز کے رنگ مختلف قسم کے ہوتے ہیں بلیک/ گرے , براؤن, گرین ,بلو ,گولڈ , سرخ/گلابی
ٹینٹڈ گلاسز ایک خاص قسم کے شیشے سے بنائے جاتے ہیں جس کا اوپری حصہ ڈارک اور نچلا حصہ لائٹ ہوتا ہے تاکہ دیکھنے میں اسانی پیدا ہو سکے ۔


Image generated using AI tools for informational use only

دنیا کے تقریبا ہر ملک میں کالے شیشے جن کو عرف عام میں ٹینٹ گلاسز کہا جاتا ہے گاڑیوں پر لگوائے جاتے ہیں  ان کے سوا باقی ہر کسی کے لیے ٹنٹ گلاسز پاکستان میں بین ہیں پاکستان میں چند ایک شرائط کی بنا پر ٹنٹ گلاسز لگوائے جا سکتے ہیں یہ گلاسز اس لیے لگوائے جاتے ہیں جن کو مختلف اقسام کی سیکیورٹی مقاصد یا وہ لوگ جن کو میڈیکلی طور پر اپرووڈ کیا جائے ٹنٹ گلاسز لگوانے کے لیے اس طرح پاکستان میں چند ایک شرائط کو پورا کرتے ہوئے ٹنٹ گلاسز لگوائے جا سکتے ہیں جن سے جرمانے سے بچا جا سکتا ہے1: پاکستان میں مکمل کالےشیشے بین ہیں کیونکہ مکمل کالے شیشے ہونے سے ملک میں واردات کی شرح بڑھ سکتی ہے اس لیؑے ہلکے کالے شیشے یا ہلکے براون شیشے لگوانے یا ان کی اجازت حاصل کرنے کے بھی مختلف طریقے ہیں 

(NOC)آپ کو سب سے پہلے حاصل کرنا ہوگا اور یہ سرٹیفیکٹ آپ کو میڈیکل یا سکیورٹی خدشات کی وجہ سے مل سکتا  ہے میڈیکل میں آنکھوں کی بیماری سکن کی بیماری آنکھوں میں موتیاں اتر آنا تیز دھوپ کی وجہ سے کم دیکھایؑ دینا آنکھوں میں جلن ہونا تیز دھوپ کی وجہ آنکھوں کا بند ہونا 

سیکورٹی خدشات کی وجہ سے وزراء اعٰلی اور دشمنی دار لوگوں کو بھی این او سی جاری کیا جاتا ہے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ یا ضلعی پولیس سے این او سی بہی حاصل کرنا ہوتا ہے 

کالے شیشے گاڑی پر لگوانے کے لیے کون سی کتاب ڈیل کرتی ہے

Ali Hass
Ali Hassan

کالے شیشے لگوانے کے کیا نقصانات ہیں ؟ 

کالے شیشے پاکستان میں منع ہیں کالے شیشے لگوانے سے پاکستان کا قانون جس کا نام موٹر وہیکل ارڈیننس 1965 ہے وہ حرکت میں ا جاتا ہے کالے شیشے لگوانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دہشت گردی بڑھتی ہے

دہشت گرد کالے شیشے والی گاڑیوں میں بیٹھ کر فرار ہو جاتے ہیں پولیس کو یہ سمجھنے میں بڑی دقت اتی ہے کہ کالے شیشے والی گاڑی میں کون بیٹھا ہے کیا کوئی دہشت گرد بیٹھا ہے کوئی کیا کوئی ڈکیت بیٹھا ہے کیا کوئی چور بیٹھا ہے یا کوئی دشمن دار بندہ بیٹھا ہے یا کوئی وی ائی پی بیٹھا ہے اس لیے کالے شیشے والی گاڑی پاکستان میں بین ہے کیونکہ چند ایک لوگ سیاست دان بیوروکریٹس ایجنسیز کے لوگ وی ائی پی لوگ انہیں اختیار ہوتا ہے کہ وہ سکیورٹی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی گاڑیوں پر کالے شیشے لگوا سکتے ہیں مگر ایک عام ادمی بغیر کسی وجہ کے اپنی گاڑی پر کالج شیشے نہیں لگوا سکتا پاکستان کا قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا جو اپنی گاڑی پر کالے شیشے لگوا سکیں


2: گاڑی پر کالے شیشے لگوانے کا دوسرا بڑا نقصان۔


جب کریمینلز اپنی گاڑیوں پر کالجیشن لگوا لیتے ہیں تو وہ بھتا خوری ناجائز اصلاح ڈرگز تیل کی سمت لنک جیسے جرائم وغیرہ وغیرہ گاڑیوں میں رکھ کر کالے شیشے والی گاڑیوں میں رکھ کر کرتے ہیں کالے شیشے ہونے کی بنا پر کریمینلز جلدی پولیس سے بچ کر نکل جاتے ہیں جس سے معاشرے میں کرائم بڑھتا ہے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں لاہور اسلام اباد کراچی گجرانوالہ فیصل اباد جیسے علاقوں میں پولیس پانچ ہزار سے لے کر ب ہزار تک کالے شیشے بغیر کسی وجہ کے لگوانے والوں کو فائن کرتی ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو یہ پولیس کا بہت اچھا اقدام ہے جس سے وہ ملک میں بڑھنے والے جرائم سمگلنگز کڈنیپ پنک بتہ خوری ناجائز اسلحے کی خرید و فروخت ڈرگز کی سمگلنگ جیسے بہت سے اقدامات کی روک تھام کے لیے کالے شیشے والی گاڑیوں کو روکتے ہیں جس سے ملک میں ہونے والا ایک بہت بڑا نقصان سے بچ جایا جاتا ہے


بلیک فلم کے نام سے مشہور ۔۔۔


بھارت اور پاکستان میں اسے عموماً بلیک فلم بھی کہا جاتا ہے جو بلیک پیپر گاڑیوں کے شیشوں پر لگایا جاتا ہے جنہیں کالے شیشے والی گاڑی کے کہا جاتا ہے اگر یہ زیادہ کالے ہو جائیں تو حکومت ان کی اجازت نہیں دیتی ہاں ہلکے براؤن شیشوں کی اجازت وہ بھی میڈیکل کی اجازت کے بغیر نہیں ملتی

البتہ سامنے کا شیشہ اور ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے شخص کا شیشہ اور مومن سفید ہی رکھا جاتا ہے

کاغذات

کاغذات میں ایک درخواست شناختی کارڈ اور گاڑی کے کاغذات خاص وجہ بتانے والا ثبوت (جیسے میڈیکل رپورٹ یا سیکورٹی لیٹر) موجود ہواگر اپ سچ میں ٹنٹ گلاسز یعنی کالے شیشے لگوانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اپ کو کسی اتھینٹک ڈاکٹر جو گورنمنٹ ہسپتال میں ڈیوٹی سر انجام دیتا ہوں وہ پہلے اپ کا میڈیکلی ٹیسٹ کرے گا اور اگر وہ سمجھیں رپورٹس کو دیکھ کر کہ اپ کو ٹنٹ کلاسز کی اشد ضرورت ہے تو وہ اپ کے لیے ایک رپورٹ تیار کر دے گا جس کو مد نظر رکھتے ہوئے اپ ٹنٹ گلاسز لگا سکتے ہیں  آپ کالے شیشے استعمال کر سکتے ہیں یہ سرٹیفیکیٹ اور باقی کاغذات لے کر آپ ضلعی انتظامیہ ڈی سی سے اجازت لے سکتے ہیں

متنازعہ موضوع

 بہت سے افراد اس چیز کی خواہش کرتے ہیں کہ وہ کالے شیشے یعنی ٹنٹ گلاسز اپنی گاڑیوں پر لگوائیں مگر یہ ایک مسلہ ہے ٹینٹ گلاسز موٹر وہیکل ارڈیننس اور ٹریفک پولیس قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف وی ائی پی کے لیے قابل قبول ہے مگر عام شہریوں کے لیے یہ بین ہے ٹنٹ گلاسز پاکستان میں وی ائی پیز لگوا سکتے ہیں سیکیورٹی پرپز کے لیے لگوا سکتے ہیں یا بیرون ملک سے ائے لوگوں کی سیکیورٹی کے لیے انہیں ٹینٹ گلاسز والی گاڑیوں میں بٹھایا جاتا ہے یا وہ لوگ جنہیں وزیر داخلہ الاؤ کر دے وہ اپنے گاڑیوں کے شیشے کالے کروا سکتے ہیں یعنی ٹنٹ گلاسز لگوا سکتے ہیں۔

پاکستان میں کون کون لوگ ٹینٹ گلاسز لگوا سکتے ہیں؟ 

وہ لوگ بھی ٹینٹ گلاسز لگوا سکتے ہیں جنہیں سیکیورٹی کے خدشات ہوں مثلا کاروباری حضرات وی ائی پیز سیاست دان بیوروکریٹس یا وہ لوگ جو دشمنی دار ہو وہ بھی گلاسز لگوا سکتے ہیں لیکن اس کے لیئے  وزیر داخلہ کی اجازت سے وگر نہ عام شہریوں کے لیے ٹینٹ گلاسز بین ہیں۔

دشمنی دار لوگ 

کاروباری لوگ 

قانون نافذ کرنے والے 

سرکاری افسران

اور میڈیکل رپورٹس جن کے پاس ہو این او سی کے لیے اہپلائی کر سکتے ہیں

مخصوص ورکشاپ سے ٹینٹ گاسز لگوانا 

جب اپ اپنا اتھینٹک وجہ کی بنا پر اگر اپ کو ٹنٹ کلاسز یعنی کالے شیشے لگوانے کی اجازت مل جائے بعض صورتوں میں وہ کسی خاص دکان یا ایسی جگہ کا خود بتاتے ہیں کہ جہاں سے اپ لگوا سکتے ہیں کالج شیشے اور بعض صورتوں میں اپ کسی بھی دکان یا ورکشاپ سے کالے شیشے لگوا سکتے ہیں لیکن وہ فل بلیک شیشے نہ ہوں ہلکے براؤن ہو صرف وی ائی پیز کو فل بلیک شیشے الا ہوتے ہیں این او سی کے بغیر کالے شیشے جرم کے زمرے میں آتے ہیں مکمل کالے شیشے لگوانے سے آپ کو جرمانہ کے ساتہ ساتہ سزا بھی ہو سکتی ہے 

کون کون سے شہر

پاکستان کے بہت سے ایسے شہر ہیں جہاں ٹنٹ کلاسز کا استعمال بہت عام ہے جیسے کہ کراچی اور لاہور میں ٹنٹ کلاسز کا بہت استعمال ہوتا ہے لیکن وہاں پر سیکیورٹی ایشوز کم ہیں جس کی وجہ سے اتنی چیکنگ نہیں ہوتی ایک کاروباری حضرات زیادہ ہیں انہوں نے اپنی بہت سی گاڑیوں پر ٹنٹ کلاسز لگوائے ہوئے ہیں 

اس کے علاوہ اسلام اباد راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں بھی ٹینٹ کلاسز کا استعمال بہت عام ہے اور پاکستان کے ایک اور شہر چترال میں بھی ٹنڈ گلاسز کا بہت استعمال ہوتا ہے لیکن اب راولپنڈی اسلام اباد اور چترال میں 2025 میں بہت سی گاڑیوں کے ٹنٹ گلاسز اتروا دیے گئے ہیں اور یہ اپریشن ابھی تک چل رہا ہے ان تین شہروں میں جہاں ٹنٹ گلاسز کو گاڑیوں سے اتروایا جا رہا ہے سیکیورٹی پرپز کا ایشوز بھی ان تین شہروں میں بہت زیادہ بن رہا ہے جس کی وجہ سے ٹینٹ گلاسز کو اتارا جا رہا ہے

نوٹ : ہر شہر میں قوانین مختلف ہو سکتے ہیں اس لیئے اپنے شہر کے ڈی سی آفس سے انفارمیشن حاصل کریں شکریہ۔


کیا ایک عام شہری اپنی گاڑی پر ٹنٹ گلاسز لگوا سکتا ہے ؟


ایک قوم شہری ٹنٹ کلاسز اپنی گاڑی پر بغیر اجازت ڈپٹی کمشنر یا وزیر داخلہ کی اجازت کے بغیر اپنی گاڑی پر ٹنٹ کلاسز نہیں لگوا سکتا اگر بغیر اجازت ایک کام شہری ٹنٹ کلاسز لگواتا ہے تو ٹریفک پولیس کو فل اختیار ہوگا کہ وہ اس کے ٹنٹ کلاسز اتار دے اس کو جرمانہ بھی کر سکتی ہے یا اس کو اس جرم کی سزا بھی دلوا سکتی ہے لہذا ایک عام شہری بغیر اجازت ٹنٹ کلاسز نہیں لگوا سکتا اور اگر ایک عام شہری کو اجازت مل بھی جائے تو وہ ٹنٹ گلاسز ہلکے براؤن رنگ کے ہوں گے جس سے اندر بیٹھا شخص کی پہچان ہو سکے 

گہرے کالے رنگ کے شیشے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے چند ایک لوگوں کو الاؤ کیے جاتے ہیں جن میں دشمنی دار لوگ کاروباری لوگ قانون نافذ کرنے والے لوگ سرکاری افسران اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بیرون ملک سے ائے لوگوں کو سیکیورٹی کے تحت ایسی گاڑیوں میں اٹھایا جاتا ہے جن کے گلاسز گہرے رنگ کے کالے شیشے ہوتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

کیا سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟

  کیا سیشن کورٹ ایک کیس کو تحصیل یا دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ ہائی کورٹ کس سیکشن کے تحت کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے ؟ Transfer a case پاکستان میں بہت سی عدالتوں کے قیام موجود ہیں جن میں سے قابل ذکر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ہے سیشن کورٹ ڈویژن کے حساب سے سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے یہاں پر لوگوں کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے مختلف عدالتیں ڈویژن لیول پر قائم کی جاتی ہیں جو وہاں سے کیس ڈگری ہوتا ہے تو ہاری ہوئی پارٹی اپیل کے لیے سیشن کورٹ میں جاتی ہے  بالکل اسی طرح ہائی کورٹ کا بھی ایک الگ مقام ہے جو کہ صوبائی سطح پر بنائی جاتی ہے اس کا کام پورے صوبے کے وہ کیسز جو سیشن کورٹ سے ڈگری ہوتے ہیں ان کے خلاف اپیل یا رٹ ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے جہاں ہائی کورٹ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہی فیصلہ برقرار رکھتی ہے یا پھر ان فیصلوں میں نقائص تلاش کر کے ان فیصلوں کی تردید کر کے ایک نئی فائنڈنگ ایک نیا فیصلہ دیتی ہے سیشن کورٹ کیا ہے سیشن کورٹ کا ذکر مختلف قانونی کتب میں ایا ہے بعض کتب میں سیشن کورٹ اور بعض میں سیشن ججز کا ذکر ایا ہے بالکل اسی طرحThe code of criminal procedure 189...

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU

SHORTS CITATIONS ABOUT ABDUCTION AND KIDNAPPING IN URDU 1.  363 ت پ کیس 3/4 سالہ نا بالغ کو اغوا کرنا سنگین جرم ہے جرم قابل راضی نامہ نہ ہے مدعی فریق کے راضی نامہ کرنے کے باوجود ملزم ضمانت کا حقدار نہ ہے 2017 YLR 744 2. 365 ت پ کیس میں محض اندراج ایف ائی ار میں تاخیر کی بنا پر ملزم ضمانت کا حق نہ دیا جائے گا 2013 CrLJ 254 365 PPC 3. 365 ت پ کیس میں ملزم اس بنا پر ضمانت کا حقدار نہ ہوگا کہ جرم ممنوعہ کلاز میں فعال نہ کرتا ہے 2011 PCrLJ 943 Prohibitory clause ایسی کلاز میں موت کی سزا عمر قید کی سزا یا وہ سزا جو 10 سال سے زیادہ ہو اور ملزم کی ضمانت اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کوئی معقول شک کی بنیاد سامنے نہ ا جائے Non prohibitory clause ایسی کلاز جس میں سزا کم ہوتی ہے یا 10 سال سے کم ہوتی ہے اس کلاز میں ضمانت ٹھوس اور معقول وجوہات کی بنا پر دی جاتی ہے 4.  365 ت پ کیس میں ملزمہ کو شک کی بنا۶ پر ملوث کیا گیا ضمانت قبل از گرفتاری منظوری ہوئی  2017 MLD 1091 5. 365 ت پ کیس میں مابین فریقین سابقہ مقدمہ بازی کی بنا پر ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہوئی 2015 CrLJ 96 6. 364 A ت پ کیس میں ...

اگر عدالت میں کسی کیس میں غلطی سے کیس کے اندر کچھ لکھا جائے تو اس کو کس طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟ اگر کسی لڑکے پر اغوا کا پرچہ ہو جائے تو وہ کس طرح عدالت سے ضمانت کروائے گا ؟

اگر عدالت میں کسی کیس میں غلطی سے کیس کے اندر کچھ لکھا جائے تو اس کو کس طرح ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟ اگر کسی لڑکے پر اغوا کا پرچہ ہو جائے تو وہ کس طرح عدالت سے ضمانت کروائے گا ؟                     Amendment in pleading                                       .... بعدالت جناب سینیئر سول جج                                                                                          شاہزیب خانزادہ بنام نادرا                                               دعوی استقرار حق وغیرہ              ...

جب کسی شخص کو کاروبار میں مکمل نقصان ہو جائے تو وہ عدالت سے کس طرح ریلیف لے ؟

 Provincial Insolvency Act 1920   (   دیوالیہ )    جب کسی شخص کو کاروبار میں مکمل نقصان ہو جائے تو  وہ  عدالت سے کس طرح ریلیف لے ؟                                        بعدالت دیوانی۔۔۔                            غفور احمد ولد میاں محمد سکنہ۔۔تحصیل و ضلع  ۔                                                          بنام                                                            احمد شیر ولد فضل احم                         ...

بیوی کو اباد کیسے کیا جاتا ہے ؟ اگر بیوی ناراض ہو کر چلی جائے تو شوہر کون سا کیس کرے گا ؟ فیملی عدالت کس طرح مدعیہ کا خرچہ بڑھاتی ہے ؟

 بیوی کو اباد کیسے کیا جاتا ہے ؟ اگر بیوی ناراض ہو کر چلی جائے تو شوہر کون سا کیس کرے گا ؟  فیملی عدالت کس طرح مدعیہ کا خرچہ بڑھاتی ہے ؟ !: Restitution Of Conjugal Rights 2: Enhancement Of Maintenance                                    عدالت جناب فیملی جج ضلع ۔۔۔                  علی خان ولد اکبر خان سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔                                                  بنام                        یاسمین دختر راشد سکنا چک نمبر ۔۔۔ تحصیل و ضلع ۔۔۔                                     دعوی اعادہ حقوق زن آشوئی                 ...